صفات باری تعالیٰ — Page 131
۳۱ عباد الرحمان کی خصوصیات نے بھی فرمایا ہے کہ گانا بجانا اور باجے وغیرہ یہ سب شیطان کے ہتھیار ہیں جن سے وہ لوگوں کو بہ کا تا ہے۔مگر افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کی اس واضح ہدایت کو بھلا دیا اور وہ اپنی طاقت کے زمانہ میں رنگ رلیوں میں مشغول ہو گئے۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آخر انہیں اپنی حکومت سے ہاتھ دھونا پڑا۔خلافتِ عباسیہ تباہ ہوئی تو محض گانے بجانے کی وجہ سے۔ہلاکو خاں اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ منزلوں پر منزلیں طے کرتا ہوا بغداد کی طرف بڑھا آرہا تھا اور معتصم باللہ ناچ گانے میں مشغول تھا اور بار بار کہتا تھا کہ تم گانے والیوں کو بلاؤ۔بغداد پر کوئی حملہ نہیں کر سکتا۔جو حملہ کرے گا وہ خود تباہ ہو جائے گا لیکن ہلاکو خاں نے پہنچتے ہی سب سے پہلے بادشاہ کو قتل کر وایا پھر اُس کے ولی عہد کو قتل کیا اور پھر بغداد پر حملہ کر کے اُس کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور اٹھارہ لاکھ آدمی قتل کر دیئے۔اسی طرح مغلیہ حکومت کی تباہی بھی گانے بجانے کی وجہ سے ہی ہوئی۔" محمد شاہ رنگیلے کو رنگیلا اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ گانے بجانے کا بہت شوقین تھا۔بہادرشاہ جو ہندوستان کا آخری مغل بادشاہ تھا وہ بھی اسی گانے بجانے کی وجہ سے تباہ ہوا۔انگریزوں کی فوجیں کلکتہ سے بڑھ رہی تھیں۔الہ آباد سے بڑھ رہی تھیں کانپور سے بڑھ رہی تھیں۔میرٹھ سے بڑھ رہی تھیں۔سہارنپور سے بڑھ رہی تھیں اور بادشاہ کے درباہ میں گانا بجانا ہو رہا تھا۔آخر انگریزوں نے اُس کے بارہ بیٹوں کے سرکاٹ کر اور خوان میں لگا کر اُس کی طرف بھیجے اور کہا کہ یہ آپ کا تحفہ ہے۔اندلس کی حکومت بھی گانے بجانے کی وجہ سے تباہ ہوئی۔۔مصر کی حکومت بھی گانے بجانے کی وجہ سے تباہ ہوگئی۔مصر پر صلاح الدین ایوبی نے حملہ کیا تو فاطمی بادشاہ اُس وقت گانے بجانے میں ہی مشغول تھا مگر اتنی بڑی تباہی دیکھنے کے باوجود مسلمانوں کو اب بھی یہی شوق ہے کہ سینما دیکھیں اور گانا بجانا