صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 132 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 132

عباد الرحمان کی خصوصیات ۳۲ سنیں اور وہ اپنی تاریخ سے کوئی عبرت حاصل نہیں کرتے۔“ عبادالرحمن کی بارھویں خصوصیت ( تفسیر کبیر جلد ششم صفحه ۵۸۶) رحمن کے بندے اپنے رب کی آیات کا ذکر سن کر آگے بڑھتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی آیات اور نشانات کو بصیرت کے ساتھ یقین و معرفت کے ساتھ قبول کرتے ہیں۔کافروں اور منافقوں کی طرح اندھوں اور بہروں کا سا سلوک آیات خداوندی اور نشانات ایزدی کے ساتھ نہیں کرتے۔اس خوبی کا ذکر قرآن کریم نے ایک اور آیت میں اس طرح بیان کیا ہے: إِنَّمَا يُؤْمِنْ بِآيَاتِنَا الَّذِينَ إِذَا ذُكِرُوا بِهَا خَذُوا سُجَّدًا وَسَبِّحُوا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ - (السجدة: ١٦ ) ترجمہ: یعنی ہماری آیات و نشانات پر وہی لوگ سچا ایمان رکھتے ہیں کہ جب انہیں آیات الہیہ کے متعلق تو جہ دلائی جائے تو وہ سجدہ کرتے ہوئے زمین پر گر جاتے ہیں اور اپنے رب کی تعریف اور تسبیح کرتے ہیں اور تکبر سے کام نہیں لیتے۔قدرتی امر ہے کہ خدا تعالیٰ کا ذکر عباد الرحمن کا دن رات اوڑھنا بچھونا ہو جاتا ہے وہ ذکر الہی سے سرشار رہتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: نماز کے علاوہ اٹھتے بیٹھتے اپنا دھیان خدا تعالیٰ کی طرف رہے۔یہی اصل مدعا ہے جس کو قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کی تعریف میں فرمایا ہے کہ وہ اٹھتے بیٹھتے خدا تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں تو اس کی قدرتوں میں فکر کرتے ہیں۔ذکر اور فکر ہر دو عبادت میں شامل ہیں۔فکر کے ساتھ شکر گزاری کا مادہ بڑھتا ہے۔انسان سوچے اور غور کرے کہ زمین و آسمان ، ہوا اور بادل ، سورج اور چاند ستارے اور سیارے سب انسان کے فائدے کے واسطے خدا تعالیٰ نے بنائے۔فکر معرفت کو بڑھاتا ہے۔غرض ہر وقت خدا کی یاد میں اس کے