صفات باری تعالیٰ — Page 108
عباد الرحمان کی خصوصیات کرتے ہیں۔آنحضرت سیلم کی ساری زندگی میں اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگیوں میں بے شمار نمونے اس قسم کے ملتے ہیں۔آنحضرت صلی یا پی ایم کو کفار مکہ اور طائف کو تبلیغ کرنے کے دوران کون سی تنگی تھی جو برداشت نہ کرنی پڑی ہو۔آپ سلامتی کا پیغام لے کر جاتے۔بستی بستی ، قریہ قریہ ان کی ہمدردی سے مجبور ہو کر فرض تبلیغ ادا فرماتے مگر شریر لوگ کہتے اور شریر بچوں کو پیچھے لگا دیتے۔جو پتھراؤ کرتے چنانچہ ایک دفعہ آپ طائف کی بستی میں تشریف لے گئے جہاں آپ کو اسی قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑا۔(مسلم کتاب الجهاد باب ما لقى النبى من اذى المشركين والمنافقين) حدیثوں میں یہ بھی آتا ہے کہ رسول کریم صلی لا الہ سلم کے پاس ایک دفعہ ایک یہودی آیا اور اس نے آپ سے کسی قرض کی واپسی کا سختی سے مطالبہ کیا۔صحابہ یہ حالت دیکھ کر غصہ سے بے تاب ہو گئے اور انہوں نے اپنی تلواریں سونت لیں مگر رسول کریم صلی ہی ہم نے ان سے فرمایا جانے دو جس کا حق ہوتا ہے وہ سختی کر ہی بیٹھتا ہے۔(مسلم کتاب البیوع باب من استلف مقضی خیر امته) اسی طرح ایک اور شخص نے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ دیا کہ آپ نے جو اموال کی تقسیم کی ہے اس میں انصاف سے کام نہیں لیا۔حضرت عمر" تلوار لے کر کھڑے ہو گئے تا کہ اس کا سر اڑا دیں مگر رسول کریم صلی السلام نے فرمایا جانے دوا سے کچھ نہ کہو۔عفو اور در گذر سے کام لے کر ہی دلوں پر حکومت کی جاسکتی ہے۔یہی وجہ تھی کہ جب کسی معاہدہ کے تحت مسلمان کسی علاقہ سے دست کش ہوتے تو وہ محکوم لوگ مسلمانوں کی حکومت کے خواہاں ہوتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: گالیاں سن کے دعا دو پا کے دکھ آرام دو کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھا ؤانکسار