صفات باری تعالیٰ — Page 107
عباد الرحمان کی خصوصیات بَعْدَ الْإِيمَانِ وَمَنْ لَّمْ يَتُبْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ - (الحجرات: ١٢) تم ایک دوسرے کا چڑ کے نام نہ لو۔یہ فعل فساق و فجار کا ہے۔جو شخص کسی کو چڑاتا ہے ، وہ نہ مرے گا جب تک وہ خود اس میں مبتلا نہ ہوگا۔اپنے بھائیوں کو حقیر نہ سمجھو۔جب ایک ہی چشمہ سے کل پانی پیتے ہو، تو کون جانتا ہے کہ کس کی قسمت میں زیادہ پانی پینا ہے۔مکرم ومعظم کوئی دنیاوی اصولوں سے نہیں ہوسکتا۔خاتعالیٰ کے نزدیک بڑا وہ ہے جو متقی ہے۔إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَكُمْ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ - ( ملفوظات جلد اول صفحه (۳۱۶) صحابہ کرام کا بھی یہی طریق تھا کہ باوجود اس کے کہ قیصر و کسریٰ کی حکومتیں ان کے قبضہ اقتدار میں آئیں مگر ذرہ برابر ظلم کا سلوک نہ کیا گیا۔وہ کر بھی کیسے سکتے تھے۔جب کہ انہیں سبق ہی یہ ملا تھا کہ خون کے پیاسوں اور جان و مال پر جنگلی درندوں کی طرح بار بار حملہ کرنے والے وحشیوں کو بھی اقتدار کے وقت لا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کہہ کر آن واحد میں معاف کر کے ان کی عزت افزائی کی گئی۔یہ نمونہ دنیا نے فتح مکہ کے دن دیکھا۔اور آنحضرت سل کا یہی تم نے اقتدار کے ملتے ہی اپنوں اور پرایوں پر اتنی شفقت کا سلوک کیا کہ صفحہ ہستی پر اس کی مثال نہ ملے گی۔عبادالرحمان کی دوسری خصوصیت فرمایا: وو وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَهِدُونَ قَالُوا سَلَمًا - (الفرقان: ۶۴) ” جب ان سے جاہل لوگ مخاطب ہوتے ہیں تو وہ ان سے لڑتے جھگڑتے نہیں بلکہ کہتے ہیں ہم تو تمہاری بھلائی چاہتے ہیں اور سلامتی کی دعا ۷