صفات باری تعالیٰ — Page 96
یعنی الأسماء الحسنى ہے۔باقی سب لاشئے ہیں۔کس قدر ظاہر ہے نور اس مبدء الانوار کا بن رہا ہے سارا عالم آئینہ ابصار کا ۱۴۹ - اَلْبَاطِنُ هُوَ الْبَاطِنُ لَيْسَ دُونِهِ شَيْءٍ- (اللُّغَةُ) وہی ہر شے کے بطن میں ہے کیونکہ ہر شے اس کی مخلوق ہے۔لہذا ہر شے پر خالق کی چھاپ ہے۔مگر اس میں دیکھنے والی نظر چاہیے۔سورہ حدید میں فرمایا: هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (الحديد: ۴) ۱۵۰۔ذُو الْعَرْشِ صاحب عرش۔فرمایا: فَادْعُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ - رَفِيعُ الدَّرَجَاتِ ذُو الْعَرْشِ يُلْقِي الرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ لِيُنْذِرَ يَوْمَ التَّلاقِ (المؤمن : ۱۵ - ۱۶) پس اللہ تعالیٰ کو ہی پورے مخلص ہو کر پکارو۔خواہ کافر برا ہی مناتے رہیں۔وہ اللہ جو بڑے بلند درجوں والا ہے۔عرش کا مالک ہے۔اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے وحی نازل فرماتا ہے تا کہ وہ ملاقات کے دن سے ڈرائے۔ذُو الْعَرْشِ الْمَجِيدُ۔(البروج: ١٦) ذِي قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينِ۔(التكوير: ٢١) ۹۶ Σ