صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 97 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 97

صفات باری تعالى يعنى الأسماء الحسنى قُلْ لَوْ كَانَ مَعَهُ آلِهَةٌ كَمَا يَقُولُونَ إِذًا لَابْتَغُوا إِلَى ذِي الْعَرْشِ سَبِيلًا (الإسراء: ۴۳) ترجمہ: یعنی اے نبی کہہ دو اگر اللہ کے ساتھ اور بھی ہوتے تو وہ مالک العرش ہے وہ کوئی راہ ڈھانڈ تے ( یعنی محکوم بن کر کیوں رہتے ) پس جاننا چاہیے کہ جمہور کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ عرش جسمانی اور مخلوق چیز ہے جس پر خدا بیٹھا ہے۔قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ عرش کوئی محدود اور مخلوق سے نہیں۔خدا تعالیٰ نے جابجا فرمایا کہ ہر وہ چیز جو وجود رکھتی ہے اس کو میں ہی پیدا کرتا ہوں۔زمین و آسمان ان کی قوتیں اور ان کے ذرات کی خاصیتیں اور روحوں کی تمام قو تیں خدا تعالیٰ کہتا ہے میں پیدا کرتا ہوں۔میں اپنی ذات میں قائم ہوں اور ہر ایک چیز میرے ساتھ قائم ہے۔ہر ایک ذرہ اور تمام موجودات میرے پیدا کئے ہوئے ہیں مگر کہیں نہیں کہا کہ عرش بھی کوئی جسمانی چیز ہے جس کو میں نے تخلیق کیا ہے۔اس کی تشریح میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : عرش سے مراد قرآن شریف میں وہ مقام ہے جو تشبیہی مرتبہ سے بالا تر اور ہر ایک عالم سے برتر اور نہاں در نہاں اور تقدس اور تنزہ کا مقام ہے وہ کوئی ایسی جگہ نہیں کہ پتھر یا اینٹ یا کسی اور چیز سے بنائی گئی ہو اور خداُس پر بیٹھا ہوا ہے اسی لئے عرش کو غیر مخلوق کہتے ہیں اور خدا تعالیٰ جیسا کہ یہ فرماتا ہے کہ کبھی وہ مومن کے دل پر اپنی تحلی کرتا ہے۔ایسا ہی وہ فرماتا ہے کہ عرش پر اُس کی تحلی ہوتی ہے اور صاف طور پر فرماتا ہے کہ ہر ایک چیز کو میں نے اٹھایا ہوا ہے یہ کہیں نہیں کہا کہ کسی چیز نے مجھے بھی اُٹھایا ہوا ہے۔اور عرش جو ہر ایک عالم سے برتر مقام ہے وہ اُس کی تنزیہی صفت کا مظہر ہے اور ہم بار بارلکھ چکے ہیں کہ ازل سے اور قدیم سے خدا میں دو صفتیں ہیں۔۹۷