صفات باری تعالیٰ — Page 94
یعنی الأسماء الحسنى روحانیت کی انتہائی رفعتیں انہیں عطا کر دیتا ہے اور ان کے بالمقابل منکرین پست ہوتے ہوتے قعر مذلت میں جا پڑتے ہیں اور اسفل السافلین بن جاتے ہیں۔۱۳۹ - اَلْمُتَوَفِّى وفات دینے والا طبعی موت سے مارنے والا۔فرمایا: إِنِّي مُتَوَفِّيكَ میں تجھے وفات دینے والا ہوں۔۱۴۰ - اَلْمُمِيت مارنے والا۔موت کسی مفہوم میں ہو۔فرمایا: (آل عمران: ۵۶) وَاللَّهُ يُحْيِي وَيُمِيتُ۔(آل عمران: ۱۵۷) زندگی کو پیدا بھی وہی کرتا ہے اور ختم بھی وہی کرتا ہے۔ابتداء کا انتہاء کا وہی مالک ہے۔۱۴۱ - الباقي باقی رہنے والا ، جو کبھی فتانہ ہو ، لا فانی جیسا کہ سورہ رحمن میں فرمایا: وَيَبْقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ - ۱۴۲۔اَلْوَارِثُ فناء موجودات کے بعد باقی رہنے والا۔فرمایا: (الرحمن:۲۸) وَإِنَّا لَنَحْنُ نُحْيِي وَيُمِيتُ وَنَحْنُ الْوَارِثُونَ (الحجر: ۲۴) ۱۴۳ - الْجَامِع تمام مخلوقات کو جمع کرنے والا اور تمام کمالات کا جامع۔فرمایا: رَبَّنَا إِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ - (آل عمران: ۱۰) ۹۴