صفات باری تعالیٰ — Page 93
صفات باری تعالى يعنى الأسماء الحسنى حضرت امام الزمان علیہ السلام فرماتے ہیں: پس اصل بات یہ ہے کہ خدا کی قدرت میں جو ایک خصوصیت ہے جس سے وہ خدا کہلاتا ہے وہ روحانی اور جسمانی قوتوں کے پیدا کرنے کی خاصیت ہے۔مثلاً جانداروں کے جسم کو جو اُس نے آنکھیں عطا کی ہیں اس کام میں اس کا اصل کمال یہ نہیں ہے کہ اُس نے یہ آنکھیں بنائیں بلکہ کمال یہ ہے کہ اُس نے ذرات جسم میں پہلے سے ایک پوشیدہ طاقتیں پیدا کر رکھی تھیں۔جن میں بینائی کا نور پیدا ہو سکے پس اگر وہ طاقتیں خود بخود ہیں تو پھر خدا کچھ بھی چیز نہیں کیونکہ بقول شخصے کہ گھی سنوارے سالنا بڑی بہو کا نام۔اس بینائی کو وہ طاقتیں پیدا کرتی ہیں خدا کو اس میں کچھ دخل نہیں اور اگر ذرات عالم میں وہ طاقتیں نہ ہوتیں تو خدائی بے کا ر رہ جاتی پس ظاہر ہے کہ خدائی کا تمام مدار اس پر ہے کہ اس نے روحوں اور ذرات عالم کی تمام قوتیں خود پیدا کی ہیں اور کرتا ہے اور خودان میں طرح طرح کے خواص رکھے ہیں اور رکھتا ہے پس وہی خواص جوڑنے کے وقت اپنا کرشمہ دکھلاتے ہیں۔اور اسی وجہ سے خدا کے ساتھ کوئی موجد برابر نہیں ہو سکتا“ نسیم الدعوت روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۸۳، ۳۸۴) تمام ایٹمی ذرات نہ صرف یہ کہ پیدا کئے بلکہ ان میں جدا جدا خاصیتیں اور طاقتیں رکھیں۔ان قوتوں اور خاصیتوں کو ہر شے کے ایٹم میں جدا جدا پیدا کرنا اور ایک تنوع ان میں رکھنا یہ اس کی قدرت کا ایک زبر دست ثبوت اور اس کی خدائی کے ثابت کرنے کے لئے بہت بڑی دلیل ہے۔۱۳۸ - اَلْخَافِضُ نافرمانوں کو پست کرنے والا۔یہ صفت الرافع کے بالمقابل ہے یعنی اس میں رفع کی نفی پائی جاتی ہے۔نیک لوگوں کا تو اللہ تعالیٰ رفع فرماتا ہے اور وہ بھی ساتویں آسمان تک یعنی ۹۳