صفات باری تعالیٰ — Page 92
یعنی الأسماء الحسنى ۱۳۵ - مُبْتَلِی ۹۲ کھرے اور کھوٹے کو پر کھنے والا۔امتحان لینے والا۔ظاہر کرنے والا۔آزمائش کرنے والا۔فرمایا: إِنَّ اللهَ مُبْتَلِيكُمْ بِنَهَرٍ - (البقرة: ۲۵۰) بے شک اللہ تعالیٰ ایک نہر کے ذریعہ تمہاری آزمائش کرنے والا ہے۔وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ - (البقرة: ۱۲۵) امتحان اور ابتلاء کا سلسلہ مومن کی روحانی ترقی کے لئے ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ ابتلاء مومن کو کچھ دینے کے لئے آتے ہیں لینے کے لئے نہیں آتے۔١٣٦ - اَلْقَادِرُ قدرت والا۔فرمایا: قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ - (الأنعام: ۲۶) نیز وہ انعامات بھی نازل فرمانے کے لئے قادر ہے۔ہر رمضان میں مومنوں کے لئے لیلۃ القدر نازل فرماتا ہے اور ہر مومن جو روحانی طور پر ایمان کے تقاضے پورے کرتا ہے اور خدا تعالیٰ اسے اس قابل سمجھتا ہے تو اسے شخصی لیلتہ القدر بھی عطا کرتا ہے۔نیز انبیاء کا زمانہ بھی لیلتہ القدر کا زمانہ ہوتا ہے۔چنانچہ جماعت احمد یہ بھی لیلتہ القدر میں سے گزر رہی ہے اور مطلع الفجر کی نتظر ہے۔۱۳۷ - اَلْمُقْتَدِرُ صاحب مقتدر ، مقتدر قادر کے معنی تو ایک ہی ہیں مقتدر مبالغہ کا صیغہ ہے۔فرمایا: فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ - القمر : ۵۲)