صفات باری تعالیٰ — Page 68
یعنی الأسماء الحسنى سکیں گے۔ذُو الرَّحْمَةِ کا یہ بھی مفہوم ہے کہ وہ سزا دینے میں ڈھیل ہی نہیں دیتا بلکہ اس کی سزا کی ۶۸ تہہ میں رحمت ہی رحمت ہوا کرتی ہے جیسے جراح اور سرجن کی تکلیف میں آرام ہی آرام ہوتا ہے۔۷۹_ اَلشَّكُورُ قدر دان۔فرمایا: لِيُوَفِّيَهُمْ أَجُورَهُمْ وَيَزِيدَهُمْ مِنْ فَضْلِهِ إِنَّهُ غَفُورٌ شَكُورٌ ވ (فاطر: ۳۱) یہ کہ تا وہ اپنے فضل سے ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے بے شک وہ غفور بھی ہے اور قدر دان بھی ہے۔یہ اس کی قدر دانی ہے کہ محدود اور تھوڑے عمل پر لامتناہی ثواب اور اجر عطا فرماتا ہے۔٨٠_ اَلشَّاكِرُ قدر دانی کرنے والا اور اپنے بندوں کی اطاعت پر خوش ہو کر ثواب دینے والا۔اپنی نعمتوں اور فضلوں کو بڑھانے والا۔جیسا کہ ایک جگہ فرمایا: لئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ - (ابراهيم: ۸) مَا يَفْعَلُ اللهُ بِعَذَا بِكُمْ إِن شَكَرْتُمْ وَآمَنْتُمْ وَكَانَ اللَّهُ شَاكِرَا عَلِيمًا (النساء: ۱۴۸) اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر کرو اور اس پر ایمان لاؤ تو وہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اور خدا تعالیٰ قدر دان اور جاننے والی ہستی ہے۔فرمایا: فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ - (البقرة: ۱۵۹)