صفات باری تعالیٰ — Page 69
یعنی الأسماء الحسنى ۸۱- كَاشِفُ الضُّرَ غموں اور دکھوں کو دور کرنے والا۔اس کا مادہ قرآن کریم میں موجود ہے۔چنانچہ فرمایا: وَإِن يَمْسَسْكَ اللهُ بِضُرٍ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ - (الأنعام: ۱۸) یعنی اللہ اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو وہی ہے جو اس کو دور کرتا ہے۔ایک جگہ فرمایا: إِنَّا كَا شِفُوا الْعَذَابِ قَلِيلًا - (الدخان: ۱۶) یعنی بے شک ہم کچھ عذاب دور کرنے والے ہیں۔اسی رکوع میں ایک اور جگہ فرمایا: رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ (الدخان: ۱۳) ۶۹ اے ہمارے رب ہم سے عذاب دور کر بے شک ہم مومن ہوئے جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ كا كاشف الضر ہونا اس کی ربوبیت کے تقاضے کو بھی پورا کرتا ہے اور اس کی رحیمیت پر بھی دال ہے۔٢_ اَلْوَكِيلُ کارساز۔وکیل اسے کہتے ہیں جس کے سپر دا پنا کل کام کر دیں اور تمام تصرف اس کے ہاتھ میں ہو۔خدا تعالیٰ نے اپنے عاجز بندوں کے تمام کام اپنے خاص فضل اور رحم کے ساتھ اپنے ہاتھ میں رکھے ہوئے ہیں اسی لئے وہ وکیل نعم الوکیل ہے۔چنانچہ فرمایا: وَاللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ - (هود:۱۳) وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ - (آل عمران: 174) وَكَفَى بِاللهِ وَكِيلًا - (النساء: ۸۲)