صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 64 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 64

یعنی الأسماء الحسنى إِنَّ رَبِّي قَرِيبٌ مُجِيدٌ مُجِيْب - پھر فرمایا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهُ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ - (هود:۶۲) اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا - (البقرة: ۲۵۸) وَاللهُ وَلَى الْمُتَّقِينَ - (الشورى:۲۹) (الجاثية: ٢٠) ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی ولایت خاص اس کے متقی اور نیک بندوں کے لئے مخصوص ہے۔ا خَيْرُ الرَّحِمِينَ تمام رحم کرنے والوں میں سے جس کا رحم سب سے زیادہ خیر و برکت والا ہے۔فرمایا: رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ اور ایک جگہ فرمایا: (المؤمنون:١١٠) وَقُلْ رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَ أَنْتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ (المؤمنون: ١١٩) سچ ہے رحمت خاص کی بھیک خدا تعالیٰ جو خیر الرازقین بلکہ ارحم الراحمین ہی سے مانگی جاتی ہے۔۷۲۔اَرْحَمُ الرَّاحِمِيْنِ سب سے زیادہ رحم کرنے والا۔قرآن کریم میں یہ اسم اکثر مرتبہ آیا ہے مثلاً فرمایا: قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِأَخِي وَأَدْخِلْنَا فِي رَحْمَتِكَ وَانْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ (الأعراف: ۱۵۲) ۶۴