صفات باری تعالیٰ — Page 63
یعنی الأسماء الحسنى اپنے رب سے استغفار کرو اور تو بہ کرو۔یقیناً میرا رب رحم کرنے والا ہے۔اور اس کے تقاضے کو یوں پورا کرتا ہے کہ اپنے بندوں سے انتہائی محبت کرنے لگتا ہے کیونکہ وہ ودود ہے۔وڈ گڑ جانے کو کہتے ہیں۔ایسی محبت جو ایک دوسرے کے اندر داخل ہو اور کبھی نہ نکلے اور ۶۳ کم نہ ہو بلکہ بڑھتی جائے اور ایک جگہ فرمایا۔ހ ވ ވވ، وَهُوَ الْغَفُورُ الْوَدُودُ - (البروج : ۱۵) ۶۹ - الرَّءُوْف بہت شفقت کرنے والا۔رافت کہتے ہیں شدت رحمت کو۔فرمایا: بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ - (التوبة: ١٢٨) إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ - (الحشر:اا) وَإِنَّ اللهَ بِكُمْ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ (الحديد : ١٠) اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے بندوں کے ساتھ شفقت اور محبت کا سلوک فرماتا ہے اور اس کی ایک قسم کی رافت سے عام بندوں کو بھی حصہ دیا گیا ہے۔جیسا کہ فرمایا: إِنَّ اللهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ - (البقرة: ۱۴۴) وَاللَّهُ رَءُونَ بِالْعِبَادِ الْوَلِيُّ (البقرة: ٢٠٨) محب ، مددگار ، سر پرست ، قریب۔ولی کہتے ہیں محب و ناصر کو ، اور اللہ تعالیٰ راست بازوں کا محبت ہے۔اور انہیں مدد دیتا ہے اور ولی متولی کو بھی کہتے ہیں اور بے شک اللہ تعالیٰ نیکو کاروں کا سر پرست بھی ہے۔اسی طرح ولی قریب کے معنوں میں بھی آیا ہے جیسا کہ اس نے دوسری جگہ اپنے قریب ہونے کا ذکر فرمایا: