صفات باری تعالیٰ — Page 45
یعنی الأسماء الحسنى قَبْلُ لَفِي ضَللٍ مُّبِينٍ (آل عمران: ۱۶۵) اللہ نے مومنوں میں سے ایک ایسا رسول بھیج کر جو انہیں اس کے نشان پڑھ کر سناتا ہے ۴۵ اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے۔یقیناً ان پر احسان کیا ہے اور وہ اس سے پہلے یقینا کھلی کھلی گمراہی میں پڑے ہوتے ہیں۔یہاں پر مومنوں کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ وہ رسولوں پر ایمان لا کر خدا تعالیٰ کے اس احسان کو مانتے ہیں ورنہ احسان الہی تو تمام انسانیت کے لئے ہوتا ہے کہ وہ فائدہ اٹھائیں اور ضلالت کو روشنی سے تبدیل کر دیں اور تزکیہ نفس حاصل کریں۔۳۵۔النُّور روشنی کا منبع۔روشنی کرنے والا۔ہمہ نور۔فرمایا: اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَ الْاَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكُوةٍ فِيهَا مِصْبَاحُ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ b (النور: ٣٦) اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔وہ اپنے نور تمثیلی رنگ میں اس طرح ظاہر کرتا ہے کہ گو یا طاقچہ ہے جس میں ایک قندیل رکھی ہوئی ہے اور وہ گلوب ایسا ہے جیسے ایک چمکنے والا ستارہ ظلمتیں ہوتا ہے۔یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی ا یہ تم کو مصباح قرار دیا ہے جس کے ذریعہ طلا چھٹ جاتی ہیں اور الہی نور ظاہر ہوتا ہے اور اسی نور کو خلافت کے ذریعہ سے ایک چمنی پہنا دی گئی ہے جس کی وجہ سے وہ نور دیر تک اور دور کے زمانوں اور مکانوں میں چمکتا ہے اور نسل انسانی کی ہدایت کا موجب ہوتا ہے اور مشرقی و مغربی سب اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔اور اس عالم میں یوں نور خداوندی کے ظاہری مظاہر بھی ہیں۔مختلف زمانوں میں غلطی خوردہ انسانوں نے انہیں ہی دیوتا بنا کر پوجنا شروع کر دیا مگر معنوی مظہر جنہیں سراجا منیرا کہا گیا ہے جو آسمان روحانیت میں ایک سورج ہیں اور ان کا ایک چاند بھی ہے اور صحابہ کرام جنہیں ستارے کہا گیا