صدق المسیح — Page 59
اُس زمانہ میں اسی تعریف کے بل بوتے پر یہ دیوبندی مولوی انگریزوں سے سالانہ گرانٹیں اور جاگیریں حاصل کیا کرتے تھے۔لیکن اسکے بالمقابل کوئی یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے بھی انگریزوں سے اپنے لئے یا جماعت احمدیہ کے لئے کسی قسم کا کوئی فائدہ اُٹھایا بلکہ جس ملکہ کو یہ ظلِ سبحانی اور سایہ خدا جیسے القابات سے نوازتے تھے اس کو حضرت مرزا غلام احمد قادیانی تبلیغ اسلام کرتے تھے چنانچہ آپ نے ملکہ کو مخاطب کر کے لکھا: ”اے ملکہ توبہ کر اور اس خدا کی اطاعت میں آجا جسکا نہ کوئی بیٹا ہے نہ شریک اور اسکی تمجید کر۔۔۔اے زمین کی ملکہ اسلام قبول کرتا تو بچ جائے۔۔۔آمسلمان ہو جا۔“ ( آئینہ کمالات اسلام صفحه ۵۳۴) پس اب فیصلہ انصاف پسند بھائیوں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ سوچیں کہ کیا انگریز دیو بندیوں کو اپنا غلام بنائیں گے یا احمدیوں کو جو ایک طرف تو اُن کے خدا یسوع مسیح کو مردہ ثابت کر رہے ہیں۔اور دوسری طرف ان کی ملکہ کو اسلام قبول کرنے کے دعوت دے رہے ہیں۔آخری نصیحت پس اے مولوی صاحب تم اور تمہارے ہمنوا مولویوں کو چاہیئے کہ وہ مخالفت چھوڑ کر اس نیک کام میں شامل ہوں۔جھوٹ بولنا۔جھوٹے الزامات لگانا چھوڑ دیں کیونکہ یہ جھوٹ اور مخالفت آپکے کسی کام نہ آئیگی بلکہ قیامت کے روز آپ کے لئے روسیاہی کا ایک داغ بن جائیگی۔حضرت بانی جماعت احمدیہ علیہ السلام فرماتے ہیں: نیا مجھ کو نہیں پہچانتی لیکن وہ مجھے جانتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے یہ ان لوگوں کی غلطی ہے اور سراسر بد قسمتی ہے کہ میری بتا ہی چاہتے ہیں۔میں وہ درخت ہوں جسکو مالک 59