صدق المسیح — Page 58
پس تاریخ کی یہ منہ بولتی شہادتیں کھول کھول کر بتارہی ہیں کہ انگریزوں کے دور حکومت میں دیو بندی انگریزوں کے غلام، نوکر، ملازم ، پینشنر رہے ہیں احمدی نہیں ! یہی نہیں ندوۃ العلماء لکھنؤ جو دیوبندی مسلک کے لوگوں کا ہی ایک ادارہ ہے اس ادارے کا سنگ بنیاد بھی ایک انگریز نے رکھا تھا۔چنانچہ رسالہ الندوہ میں لکھا ہے: ۲۸ نومبر ۱۹۰۸ء کو دارالعلوم ندوۃ العلماء کا سنگ بنیاد ہر آنر لیفٹیننٹ گورنر بہادر ممالک متحدہ سر جان سکاٹ یہوس کے سی ایس آئی ای نے رکھا تھا۔( الندوة دسمبر نمبر ۱۹۰۸ء) اسی طرح رسالہ الندوہ میں مزید لکھا ہے: علماء ( دیو بند ندوہ) کا ایک ضروری فرض یہ بھی ہے کہ گورنمنٹ کی برکات سے واقف ہوں اور ملک میں گورنمنٹ کی وفاداری کے خیالات پھیلائیں۔“ ( الندوہ جولائی ۱۹۰۸ء) پس صاف کہو کہ اب دیو بندی انگریزوں کا خود کاشتہ پودا ہے یا احمدی۔چنانچہ تاریخ اس امر کی شہادت بھی دیتی ہے کہ اگر ایک طرف دارالعلوم دیو بند والے گورنمنٹ برطانیہ کے نوکر تھے تو دوسری طرف ندوہ کو سالانہ چھ ہزار روپے انگریز حکومت کی طرف سے گرانٹ ملتی تھی۔اسی لئے باقاعدہ جلسوں میں ملکہ وکٹوریہ کو فل سجانی“ اور ”سایہ حق تک کہا جاتا تھا چنانچہ ان دنوں انجمن حمایت اسلام کے سالانہ اجلاس میں پڑھی جانیوالی نظم کا ایک شعر یوں بھی تھا: سایہ حق انپر تھا خود ظل سبحانی تھی سارے عالم میں بڑی یکتا مہارانی تھیں اجلاس انجمن حمایت اسلام منعقدہ اکتوبر ۱۹۰۳ء بمقام امرتسر پنجاب) 58