صدق المسیح — Page 42
میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے۔تب انہوں نے کہا کہ یہ دیکھولکھا ہوا ہے۔تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شائد قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ وہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے۔مکہ اور مدینہ اور قادیان یہ کشف تھا جو کئی سال ہوئے کہ مجھے دکھلایا گیا تھا۔اور اس کشف میں جو میں نے اپنے بھائی صاحب مرحوم کو جو کئی سال سے وفات پاچکے ہیں۔قرآن شریف پڑھتے دیکھا اور اس الہامی فقرہ کو ان کی زبانی قرآن شریف میں پڑھتے سنا تو اُسمیں یہ بھید مخفی ہے جس کو خدائے تعالیٰ نے میرے پر کھول دیا کہ ان کے نام سے اس کشف کی تعبیر کو بہت کچھ تعلق ہے۔یعنی اُن کے نام میں جو قادر کا لفظ آتا ہے اس لفظ کو کشفی طور پر پیش کر کے یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ قادر مطلق کا کام ہے اس سے کچھ تعجب نہیں کرنا چاہیئے۔اُسکے عجائبات قدرت اسی طرح پر ہمیشہ ظہور فرما ہوتے ہیں۔کہ وہ غریبوں اور حقیروں کو عزت بخشتا ہے۔بڑے بڑے معززوں اور بلند مرتبہ لوگوں کو خاک میں ملا دیتا ہے۔بڑے بڑے علماء و فضلاء اُسکے آستانہ فیض سے بکلی بے نصیب اور محروم رہ جاتے ہیں۔اور ایک ذلیل حقیر انپڑھ جاہل نالائق منتخب ہو کر مقبولین کی جماعت میں داخل کر لیا جاتا ہے۔ہمیشہ سے اُسکی کچھ ایسی ہی عادت ہے اور قدیم سے وہ ایسا ہی کرتا چلا آیا ہے۔” ذالک فضل الله يؤتيه من يشاء۔(ازالہ اوہام صفحہ ۳۲ طبع سوم ) اس اقتباس نے مولوی نذیر حسین قاسمی کی چال بازی ظاہر کر دی ہے کہ انہوں نے 42