صدق المسیح — Page 41
ظاہر پر محمول کرنا پرلے درجے کی سفاہت اور نادانی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی کی یہ عظیم دلیل ہے۔کہ آپ نے خواب میں جو دیکھا اسی کو بیان فرمایا۔کیا خواب میں قادیان کا نام قرآن میں دیکھنے سے ” کذب پروری“ ہے اگر ہے تو ذرا بتلائیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ انہیں سورج اور چاند اور گیارہ ستارے سجدہ کر رہے ہیں کیا اسکو ظاہر پر محمول کیا جاتا ہے۔اور حضرت یوسف کو جھوٹا قرار دیا جاتا ہے۔کہ تمہیں سورج اور چاند کیونکر سجدہ کر سکتے تھے۔پھر حضرت رسول کریم نے بحالت کشف سونے کے کنگن اپنے ہاتھوں میں دیکھے تو کیا آپ نے واقعی سونا پہن لیا تھا اور یوں شریعت اسلامیہ کے خلاف عمل کر لیا تھا۔اور آپ نے جنگ احد کے شہداء کو گائیوں کی شکل میں دیکھا ( مسلم باب الرویاء) کیا وہ واقعی گائیں ہو گئے ہرگز نہیں۔الغرض مفتی صاحب نے کشف کو ظاہر پرمحمول کر کے اعتراض کرنے سے اپنی ایمانداری کا جنازہ نکال دیا ہے۔خواب کو ظاہر پر چسپاں کر کے مفتی صاحب موصوف نے ایمانداری کی دھجیاں اڑادی ہیں۔مولوی نذیر قاسمی صاحب کو معلوم ہونا چاہیئے کہ حضرت مسیح موعود کے ساتھ خدا کا وعدہ ہے کہ إِنِّي مُهِيْنٌ مَنْ أَرَادَ إِهَا نَتَكَ “ کہ جو شخص تجھے رسوا کرنا چاہتا ہے میں اسکو خود رسوا کرونگا اور جو تیری طرف جھوٹ منسوب کریگا وہ خود جھوٹا ثابت ہو جائیگا اب دیکھ لے کہ اس خدا کے مقدس نبی پر تو نے جھوٹ کا الزام لگایا اور تیرا دعویٰ اور تیرا یقین اور تیری بصیرت قارئین کرام پر ظاہر ہوگئی۔اور سب سے بڑا جھوٹا کون ہے واضح ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کشف کے متعلق ازالہ اوہام میں فرماتے ہیں: و کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر آواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ ”انا انزلناه قريبًا من القاديان“ تو 41