صدق المسیح — Page 53
دیو بندی اپنے پیرومر شد گنگوہی صاحب کی یہ عبارت کیسے بھول گئے وہ عبارت درج ذیل ہے: دوسُن لوحق وہی ہے جو رشید احمد کی زبان سے نکلتا ہے اور بقسم کہتا ہوں کہ میں کچھ نہیں ہوں مگر اس زمانہ میں ہدایت و نجات موقوف ہے میری اتباع تذکرہ الرشید جلد نمبر ۲ صفحہ ۱۷ مؤلف عاشق الہی میرٹھی) پر اب انصاف پسند قارئین کرام غور فرمالیں کہ کیا اس دور میں نجات مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کی پیروی سے ملتی ہے یا اب بھی نجات کے لئے آنحضرت کی پیروی لازمی ہے کیا یہ دیو بندیوں کی سرا سر تو ہین رسول نہیں ہے۔قارئین کرام ! اب دیو بندیوں کے خیالات بھی قرآن مجید کے متعلق سنئے جنگی نصیحت یہ ایک دوسرے کو کرتے ہیں دیو بندیوں کا عقیدہ ہے کہ بحالت خواب قرآن پر پیشاب کرنا اچھا ہے نعوذ باللہ اللہ بچائے دیوبندیوں کے اس عقیدے سے۔” ایک شخص نے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ مجھے اندیشہ ہے کہ میرا ایمان نہ جاتا رہے۔حضرت نے فرمایا بیان تو کروان صاحب نے کہا کہ میں نے دیکھا ہے کہ قرآن مجید پر پیشاب کر رہا ہوں حضرت نے فرمایا یہ تو بہت اچھا خواب ہے۔“ (افاضات یومیہ تھانوی صفحه ۱۳۳ فتاوی رشیدیہ صفحه ۱۰۹او مزیدالمجید تھانوی صفحه ۶۶ سطر ۲۳) پھر دیوبندی کہتے ہیں قرآن مجید کو پاؤں تلے رکھنا جائز ہے لکھا ہے: کسی عذر سے قرآن مجید کو قارورات میں ڈال دینا کفر نہیں رخصت ہے اور کوئی اور چیز نہ ہو تو قرآن شریف کو پاؤں کے نیچے رکھ کر او پر مکان سے کھانا اُتار لینا درست ہے اور بوقت حاجت قرآن شریف کو کسی کے نیچے ڈال لیناروا ہے۔“ تحریف اوراق صفحه ۴۰ بحوالہ وہابی نامه صفحه: ۳۵) 53