صدق المسیح — Page 39
حضرت موسیٰ اور خضر کا واقعہ بھی مشہور ہے جسکا ذکر بخاری میں بھی تفصیل کے ساتھ آیا ہے۔که موسی نے خضر کی شاگردی اختیار کی۔حضرت عیسی کی شاگردی اختیار کرنے کے بارے میں سید نا محمد مصطفیٰ کا فرمان ہے حضرت ابوسعید خدری کی روایت ہے کہ: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان عسى ارسلت امه ليتعلم۔قصص الانبیاء صفحه ۲۳۹ مؤلف علامہ محمد بن ابراہیم شبلی مطبوعہ مطبع حجاز قاہرہ مصر ) کہ عیسی علیہ السلام کوانکی ماں نے تعلیم حاصل کرنے کے لئے کسی عالم کے پاس بھیجا۔بیسویں صدی کے شہرہ آفاق عرب سکالر جناب عباس محمود عقاد نے اپنی کتاب حیاۃ اسیح التاريخ وكشوف العصر الحاضر الحديث الناشر دار الكتاب العربی بیروت لبنان) نے بڑی تحقیق کے بعد تحریر فرمایا: والقول الراجح بين المورخين ان معلمى السيد المسيح (صفحه : ۵۲) في صباة كانوا من طائفة الفريسيين۔یعنی مورخین کے نزدیک جس قول کو سب سے زیادہ ترجیح حاصل ہے وہ یہ ہے کہ فریسیوں کا گروہ مسیح علیہ السلام کو بچپن میں پڑھاتا تھا۔قارئین کرام! قرآن مجید کی تفاسیر حدیث شریف تاریخی حوالہ سے ثابت ہے کہ موسیٰ نے خضر علیہ السلام سے علم حاصل کیا اور عیسی علیہ السلام نے فریسیوں سے علم حاصل کیا مگر ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے دینی روحانی علوم کسی انسان سے حاصل نہیں کئے بلکہ براہِ راست اللہ تعالیٰ سے حاصل کئے۔یہی آپ کی شان حضرت بانی جماعت احمدیہ علیہ السلام نے تحریر فرمائی ہے۔اب آپ ہی فیصلہ فرما دیں کہ اس میں جھوٹ کیا ہے اور اگر کسی نے جھوٹ بولا ہے تو کس نے جھوٹ اور کذب بیانی سے کام لیا ہے؟ 39