صدق المسیح — Page 38
--- کہا گیا ہے۔زبان پر اھل اھواء ہو کیوں اعل ھبل شاید اٹھا عالم سے کوئی بانی اسلام کا ثانی حوائج دین و دنیا کی کہاں لے جائیں ہم پیارے گیاوہ قبلہ حاجات روحانی و جسمانی مردوں کو زندہ کیا زندوں کو مرنے نہ دیا اس مسیحائی کو دیکھیں زری ابن مریم بھرے تھے کعبہ میں بھی پوچھتے گنگوں کا راستہ جو رکھتے اپنے سینوں میں تھے ذوق وشوق عرفانی مرثیہ رشید احمدگنگوہی محمود الحسن صدر مدرس دیو بند ) حقیقت پسند سید رشید رضا مفتی مصر اپنی مشہور کتاب الوحی الحمد ی“ میں لکھتے ہیں: ثُمَّ يَرَى النَّاظِرُ أَنَّ سَائِرَا الأنبياءِ الْعَهْدِ الْقِدِيْمِ كَانُوا تَابِئِعِيْنَ لِلتَّوْرَاةِ مُتَعَبدِيْنَ بِهَا وإِنَّهُمْ كَانُوا يَتَدَارُ سُوْنَ تَفْسِيْرُهَا فِي مَدَارِسَ خَاصَّةٍ بِهِمُ وَبِأَبْنَائِهِمْ مَعَه عُلُوْمٍ أُخْرَى فَلَا يَصِحُ أَنْ يَذْكَرَ اَحَدٌ (دیکھئے صفحہ ۱۳۱۶) مِنْهُمْ مَعَ مُحَمَّدِه کہ ہر ایک غور کرنے والا سمجھ سکتا ہے کہ تو رات میں ذکر شدہ انبیاء تو رات کے پیرو اور اس پر عمل کرنے والے تھے اور وہ اسکی تفسیر بھی پڑھتے تھے اور علوم بھی سیکھتے تھے اسے سکولوں میں جو خاص ان کے لئے اور ان کے بیٹوں کے لئے بنائے جاتے تھے پس یہ جائز نہیں کہ ان میں سے کسی کو آنحضرت کے مقابل ذکر کیا جائے۔ان حوالہ جات سے ثابت ہے کہ تمام انبیاء نے کسی نہ کسی کی شاگردی اختیار کی ہے اور 38