صدق المسیح

by Other Authors

Page 37 of 64

صدق المسیح — Page 37

پڑھنا بھی اور لکھنا بھی جانتے تھے۔جیسا کہ شیخ الاسلام السید معین بن صفی اپنی کتاب تفسیر جامع البیان میں آیت : كَذَالِكَ لِنُثَبِّتُ بِهِ فُوَادَكَ (الفرقان: ۳۲) کے ماتحت لکھا ہے: إِنَّكَ أُمِّي بِخِلَافِ سَائِرِ الْأَنْبِيَاءِ فَإِنَّهُمْ مُتَمَكِّنُوْنَ مِنَ الْقِراءةِ وَالْكِتَابَةِ۔“ کہ اے محمد تو امی ہے بخلاف دیگر انبیاء کے کہ وہ پڑھنا بھی اور لکھنا بھی جانتے تھے۔مفتی صاحب جواب دیں کہ کیا شیخ الاسلام جھوٹ بول رہے کہ رسول کریم کے علاوہ تمام انبیاء لکھنا اور پڑھنا جانتے تھے لیکن ان کو اس سے کیا۔موصوف نے تو جھوٹ بولنے کی قسم جو کھائی ہے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود علیہ السلام سلف صالحین کی طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام انبیاء پر برتری ثابت کر رہے ہیں لیکن مفتی صاحب ہیں جو مرزا صاحب کی دشمنی میں اندھے ہو کر ہمارے آقا ومطاع حضرت خاتم الانبیاءمحمد مصطفی کی ذات پر حملے کرتے چلے جارہے ہیں۔مفتی صاحب موصوف کا اس میں کوئی ذاتی مقصد نہیں ہے۔موصوف تو بغض و عناد میں اندھے ہو کر اپنے مقتداء رشید احمد گنگوہی کی پیروی کرتے ہیں۔ذرا سنئے کہ رشید احمد گنگوہی ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کیا کہتے ہیں: ”نماز کے دوران میں زنا کے وسوسے سے اپنی بیوی کی مجامعت کا خیال بہتر ہے اور شیخ یا اُسی جیسے اور بزرگوں کی طرف خواہ رسالت مآب ہی ہوں اپنی ہمت کو لگا دینا اپنے بیل اور گدھے کی صورت میں مستغرق ہونے سے زیادہ بُرا ہے۔“ (صراط مستقیم صفحہ ۸۶ تا ۸۹ مترجم اردو بار دوم مطبوعہ جبید پریس دہلی مصنفہ مولانا محمد اسماعیل شہید دہلوی) قارئین کرام یہ وہی رشید احمد گنگوہی ہے جنکی وفات پر ایک مرثیہ میں انہیں بانی اسلام 37