صدق المسیح — Page 30
(خروج باب ۲۵) یہ دائمی قربانی نئی شریعت کے آنے سے منسوخ ہو سکتی تھی چنانچہ آنحضرت کے ظہور سے یہ بات پوری ہوئی کیونکہ اسلامی شریعت میں ایسی روزانہ اور دائمی قربانی کا کوئی حکم نہیں تھا۔دوئم :: دوسری نشانی بتوں کے تباہ کئے جانے کی تھی یہ امر بھی سید نا حضرت رسول کریم کے ذریعہ ظاہر ہوا۔حضور نے فتح مکہ کے وقت بیت اللہ شریف میں رکھے ہوئے ۳۶۰ بتوں کو توڑتے ہوئے بآواز بلند فرمایا: قُل جَاءَ الحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا ( سورہ بنی اسرائیل آیت ۸۲ ع۹) اعلان کرو کہ حق آگیا یعنی خدا کی تو حید قائم ہو گئی باطل بھاگ گیا یعنی بت تباہ ہوئے اور باطل بھاگنے والا ہی ہے۔ان ہر دو نشانیوں کے پورا ہونے کے بعد سے ٹھیک ۲۹۰ ادن تک مسیح موعود نے آنا ہے الہامی کتب میں دن سے مُراد سال ہوتے ہیں پس اس پیشگوئی کے مطابق مسیح موعود کا ظہور تیرہویں صدی ہجری کا آخر بنتا ہے۔30