صدق المسیح

by Other Authors

Page 21 of 64

صدق المسیح — Page 21

یہ گمان مت کر کہ قرض ہے واپس ملیگا تجھ کو گمانی ہے معاف سارا ادھار یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اختلافات کے ہونے اور نہ ہونے کا فیصلہ معاند کی رائے پر نہیں حالانکہ جو اختلافات اس نے پیش کئے ہیں ویسے ہی اختلافات عیسائیوں نے قرآن مجید جیسی مقدس الہامی کتاب کے بارہ شائع کئے ہیں کیا مفتی صاحب کے پاس ان اختلافات کا حل ہے۔پنڈت دیا نند نے بھی اسی قسم کے بے جا حملہ کئے ہیں وہ لکھتے ہیں: کہیں تو قرآن میں لکھا ہے کہ اونچی آواز سے اپنے پروردگار کو پکار واور کہیں لکھا ہے کہ دھیمی آواز سے خدا کو یاد کر واب کہیئے کون سی بات کچی اور کونسی جھوٹی ہے ایک دوسرے کے متضاد باتیں پاگلوں کی بکواس کی مانند ہوتی (ستیارتھ پرکاش باب ۱۴) ہیں۔66 آریہ اور عیسائی مناظرین مباحثات میں عام طور پر اپنی کوتاہ فہمی کی وجہ سے کہا کرتے ہیں کہ اگر قرآن میں اختلاف نہیں تو ان آیات کا کیا جواب ہے مثلاً : ایک طرف فرمایا 1۔ووجدك ضالا دوسری طرف فرمایا 1۔ما ضَلَّ صَاحِبَكُمْ 2 انک لتهدى إلى صراط مستقيم۔2 انكَ لا تهدى مَنْ أَحْبَبْتَ۔3 لم حَشَرْتَنى اعمى قد كنتُ بصيرا 3 فَبَصَرُكَ اليوم حَدِيد 4 إِذَا ذَكَرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قلو بهم۔4۔الا بذكر الله تطمئن القلوب 5۔ان الذين سَبَقَت لَهُمْ مِنَّا۔۔5 وانَّ مِنكُم إِلَّا واردها كان على الحسنى اولئك عنها مبعدون ربِّكَ حَمَّا مقضيَّا 6۔الم يَجِدْكَ يَتِمًا فاوى 6 إما يبلْغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أحدهما أَوْ كِلَهُمَا 21