صدق المسیح — Page 22
ہمارا ایمان ہے کہ بلاریب قرآن مجید خدا کا کلام ہے اور اس میں زرہ بھر اختلاف نہیں یہ لوگ جو قرآن مجید پر اعتراض کرتے ہیں ان کو ہماری جماعت کی طرف سے کئی مرتبہ جواب دیا جا چکا ہے جو کہ جماعت احمدیہ کے لٹریچر میں موجود ہے۔یہاں اس وقت صرف یہ بتلانا مقصود ہے کہ اگر بالفرض مان لیا جائے کہ صرف مخالفین اور مکڈ مین کے کہنے سے ہی کسی الہامی کتاب یا کسی خدا کے نبی کے کلام میں تناقض اور تضاد ثابت ہو جاتا ہے تو اس صورت میں ہمیں سب انبیاء اور آسمانی کتابوں سے انکار کرنا پڑیگا۔(معاذ اللہ ) پس ہماری طرف سے سب سے پہلا جواب یہی ہے کہ یہ اعتراض صرف حضرت مسیح موعود پر ہی نہیں کیا گیا۔بلکہ خدا تعالیٰ کے راستبازوں صادقوں پر ان کے منکرین کی طرف سے ہمیشہ ہوتے رہے ہیں۔مذہبی دنیا کی تاریخ شاہد ہے مخالف نے تو مخالفانہ بات کرنی ہی ہوتی ہے۔مخالف کے کہنے سے حقائق بدل نہیں سکتے۔مفتی صاحب اگر بغض و عناد کی عینک اتار کر دیکھتے تو ان کو معلوم ہوتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام یا قرآن کی عبارتوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔پس حقیقتا نہ تو قرآن مجید میں اختلاف ہے اور نہ حضرت بانی جماعت احمدیہ کی تحریرات میں جہاں حضرت بانی جماعت احمدیہ نے ایک استاد سے پڑھنے کا ذکر فرمایا وہ قرآن مجید ناظرہ پڑھنے کا ذکر ہے۔جیسا کہ ہر مسلمان والدین اپنے بچوں کو قرآن مجید پڑھانے کے لئے کوئی نہ کوئی انتظام کرتے ہیں۔اسی طرح آپ کے والد حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم نے اپنے بچوں کے لئے کیا کیونکہ وہ علاقہ کے رئیس تھے اس لئے اپنی حیثیت اور استطاعت کے مطابق بعض اشخاص کو ملازم رکھ لیا جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آپکی والدہ محترمہ نے اُس زمانہ کے رواج کے مطابق رضاعت کے لئے حضرت حلیمہ سعدیہ کے سپر د کر دیا ( یعنی اُسے ملازم رکھ لیا اور یہ مقصد بھی تھا کہ آپ قبیلہ بنی سعد میں رہ کر اُن کی فصیح زبان بھی سیکھ جائیں گے چنانچہ آپ نے ایک موقعہ پر فرمایا: میں تم سب سے فصیح تر ہوں کیونکہ میں قریش کے خاندان سے ہوں 22