صدق المسیح

by Other Authors

Page 20 of 64

صدق المسیح — Page 20

--- سکتا ہے۔تفسیر جلالین الکمالین از علامہ جلال الدین السیوطی میں زیر آیت الکہف اے لکھا ہے: فَقَبِلَ مُوْسَى شَرْطَهُ رِعَايَةً لِاَدَبِ الْمُتَعَلَّمَ مَعَهُ الْعَالِمِ۔( صفحه: ۲۳۵ مطبوعہ مصر زیر آیت حتی أحدث لك منہ ذکرا) کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خضر کی پیش کردہ شرط اُسی طرح قبول کر لی جس طرح ایک شاگرد اپنے استاد کی شرط کو کمال ادب سے قبول کیا کرتا ہے۔نیز پڑھا لکھا ہونا منصب نبوت کے خلاف نہیں ہے۔حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی کے حالات دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پڑھے لکھے تھے لیکن نبی جو کہ سر نبوت کی تفصیل شرح اور علوم باطنی کے سب سے بڑے راز دان تھے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی تعلیم کے سوا کسی غیر کی تعلیم کا منت کش بنانا گوارا نہ فرمایا۔”چنانچہ گزشتہ آسمانی کتب میں بھی امی کے لقب کے ساتھ آپکی بشارتیں دی ہیں۔(بحوالہ تاریخ القرآن مصنفہ حافظ محمد اسلم صاحب جے راج پوری مکتبہ جامعہ نئی دہلی صفحه ۱۳ ۱۴) حضرت موسیٰ اور حضرت داؤد علیهم السلام پر کتاب جو ایک بار انتری تو وہ لکھتے پڑھتے تھے اور ہمارے حضرت خاتم النبین والہ اجمعین امی تھے۔“ النے تفسیر حسینی مترجم اردو جلد ۲ صفحه: ۴۰ از سر آیت و رتلناه ترتیلا الفرقان ۳۲) معزز قارئین! مذکورہ بالا حوالہ جات سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ مفتی صاحب موصوف نے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر کے اپنے جھوٹ اور غلط بیانی سے خود ہی پردہ اُٹھایا۔وضاحت کی ضرورت نہیں ہے البتہ حضرت مسیح موعود کے اقتباسات کے اختلافات کی حقیقت بیان کرنا بھی بے سود نہ ہوگا چنانچہ مسیح موعودؓ فرماتے ہیں: 20