شہدائے احمدیت — Page 269
ضمیمہ فرمائے اور بچوں کا حامی و ناصر ہو۔آمین۔251 مکرم عبدالوحید صاحب آف فیصل آباد ( تاریخ شہادت ۲۴ نومبر ۲۰۰۲ء) شہداء بعد از خطبات شہداء مکرم عبدالوحید صاحب ابن مکرم عبدالستار صاحب سیکرٹری اصلاح وارشاد و ناظم عمومی مجلس خدام الاحمدیہ کریم نگر فیصل آباد۱۴ نومبر ۲۰۰۲ ء کو صبح ساڑھے دس بجے گوشت کی خریداری کے لئے اسلام نگر بازار گئے۔وہاں ایک معاند احمدیت سید امتیاز حسین شاہ نے خنجر سے حملہ کر دیا۔شہید مرحوم تقریبا نصف گھنٹہ موقع پرا کیلے تڑپتے رہے۔انکے بھائی کو اطلاع ملی تو وہ الائیڈ ہسپتال لے کر گئے لیکن جاتے ہی اپنے مولیٰ حقیقی سے جاملے۔انکی عمر ۳۱ سال تھی۔اگلے روز مسجد اقصیٰ میں بعد نماز جمعہ حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب (خلیفہ اسیح الخامس) ناظر اعلیٰ و امیر مقامی نے آپ کا جنازہ پڑھایا اور تدفین کے بعد دعا بھی کروائی۔آپ نے پسماندگان میں والدین، چار بھائی، تین بہنوں کے علاوہ اپنی اہلیہ ثمرہ وحید صاحبہ اور تین کم سن بیٹیاں یادگار چھوڑیں۔بیٹیوں کے نام نجمہ وحید، ماریہ وحید اور مہک وحید ہیں۔مکرم عبدالوحید صاحب ایک مخلص اور فدائی نوجوان تھے جماعتی خدمت کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے اور جماعتی عہدے دار بھی تھے۔خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار اور جماعت کے ساتھ والہانہ محبت تھی۔اللہ تعالیٰ آپ کو اعلی علیین میں داخل کرے اور پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین۔مکرم میاں اقبال احمد صاحب ایڈووکیٹ امیر ضلع راجن پور تاریخ شہادت ۲۵ فروری ۲۰۰۳ء) عہد خلافت رابعہ کے آخری شہید مکرم میاں اقبال احمد صاحب ایڈووکیٹ امیر ضلع راجن پور کو ۶۱ سال کی عمر میں مورخہ ۲۵ فروری ۲۰۰۳ء کو نامعلوم حملہ آوروں نے انکے گھر سے ملحقہ دفتر میں آ کر فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔۲۵ فروری رات نو بجے آپ اپنے دفتر میں کام کر رہے تھے آپ کے بھائی (غیراز جماعت ) اور بیٹی بھی پاس بیٹھی تھی۔دو پگڑی پوش آدمی آئے انہوں نے میاں صاحب کی بیٹی کو کہا تم