شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 268 of 297

شہدائے احمدیت — Page 268

ضمیمہ 250 شہداء بعد از خطبات شہداء (خلیفہ المسیح الخامس) ناظر اعلیٰ وامیر مقامی نے نماز جنازہ پڑھائی اور قبر تیار ہونے پر دعا بھی کروائی۔مکرم مقصود احمد صاحب پہلے ٹیلرنگ کے پیشہ سے وابستہ تھے۔لیکن بینائی کمزور ہونے کی وجہ سے یہ کام چھوڑ چکے تھے۔پسماندگان میں بیوہ مکرمہ رشیدہ فوزیہ صاحبہ بنت مہر نذیر احمد صاحب زمیندار احمد نگر اور کم سن بچوں میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں یادگار چھوڑیں۔بچوں کے نام یہ ہیں: عزیزم وقاص احمد ، عزیزہ تہمینہ ، عزیزہ حنا اور عزیزم اسامہ۔مکرم ڈاکٹر رشید احمد صاحب آف رحیم یارخان ( تاریخ شہادت ۱۵/ نومبر ۲۰۰۲ء) آرتھو پیڈک سرجن ڈاکٹر رشید احمد صاحب سیکرٹری امور عامہ شہر وضلع رحیم یار خان مورخہ ۱۵ نومبر ۲۰۰۲ء کو ۴۸ سال کی عمر میں شہید ہو گئے۔مورخہ 9 نومبر ۲۰۰۲ء کو دوپہر ایک بجے جب آپ اپنے کلینک رشید ہسپتال اپوا کلب روڈ رحیم یار خان میں موجود تھے تین مسلح نقاب پوش آپ کے دفتر میں گھس آئے اور آپ پر فائرنگ کردی۔آپ کو شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان پہنچایا گیا۔سات دن تک موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد جماعت کا یہ فدائی خادم اپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہو گیا۔آپ کی میت ربوہ لائی گئی۔مورخہ ۱۶ار نومبر کو بعد نماز فجر مسجد مبارک میں حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب (خلیفتہ اسیح الخامس ) ناظر اعلیٰ و امیر مقامی نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور تدفین کے بعد آپ نے دعا کروائی۔محترم ڈاکٹر صاحب ۱۹۵۴ء میں پیدا ہوئے والد کا نام مکرم بشیر احمد صراف صاحب ہے۔۱۹۷۸ء میں قائد اعظم میڈیکل کالج بہاولپور سے ایم بی بی ایس پاس کیا اور پھر ویانا یونیورسٹی آسٹریا سے آرتھو پیڈک میں ڈپلومہ بھی حاصل کیا۔آپ ماہر آرتھو پیڈک سرجن کے طور پر معروف تھے۔آپ محنتی اور ہر دلعزیز شخصیت کے مالک تھے۔جماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔ایک عرصہ سے سیکرٹری امور عامه رحیم یار خان شہر وضلع فرائض سرانجام دے رہے تھے۔آپ نے لواحقین میں اہلیہ مکرمہ ترنم رشید صاحبہ کے علاوہ چار کمسن بیٹے : بلال احمد عمرا اسال، بختاور احمد عمر ۸ سال عمر احمد عمر ۶ سال اور ولید احمد عمر ایک سال یادگار چھوڑے۔اللہ تعالیٰ آپ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا