شہدائے احمدیت — Page 270
ضمیمہ 252 شہداء بعد از خطبات شہداء اندر چلی جاؤ اس کے اٹھتے ہی انہوں نے فائرنگ کر دی۔محترم میاں اقبال صاحب موقع پر ہی شہید ہو گئے آپ کے بھائی زخمی ہوئے۔۲۶ فروری دن بارہ بجے آپ کی نماز جنازہ راجن پور میں ادا کی گئی اور پھر میت ربوہ لائی گئی۔۲۷ فروری کو صبح نو بجے احاطہ دفاتر صدرانجمن میں حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب (خلیفتہ اسیح الخامس) ناظر اعلیٰ و امیر مقامی نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور قبرستان میں تدفین مکمل ہونے پر دعا کروائی۔محترم میاں اقبال احمد صاحب تحصیل چشتیاں ضلع بہاولنگر کے رہنے والے تھے۔ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی۔میٹرک کے بعد تعلیم الاسلام کالج ربوہ داخل ہوئے۔۲۳ / اپریل ۱۹۶۱ء کو بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔۱۶ / مارچ ۱۹۷۰ء کو نظام وصیت میں شامل ہوئے۔کئی سال پہلے دفتر میں اپنے تجہیز و تکفین کے اخراجات کی رقم جمع کروا چکے تھے۔۱۹۷۱ء میں آپ نائب امیر ضلع ڈیرہ غازی خان مقرر ہوئے۔۱۹۸۰ء میں جب راجن پور ضلع بنا تو آپ امیر ضلع راجن پور مقرر ہوئے۔۱۹۸۹ء سے ۱۹۹۲ء کے عرصہ کے علاوہ آپ تا دم آخر اس عہدہ پر فائز رہے۔مجالس شوری ربوہ میں بھر پور نمائندگی کرتے اور اپنی رائے کا اظہار کرتے۔آپ پر متعدد مقدمات بنائے گئے ، اسیر راہ مولیٰ بھی رہے اور جماعتی مقدمات کی پیروی کیلئے بھی خدمات بجالاتے رہے۔روزنامہ الفضل میں مضامین بھی لکھا کرتے تھے۔آپ ایم اے اسلامیات ( گولڈ میڈلسٹ ) اور ایل ایل بی تھے۔معروف قانون دان کے علاوہ علاقے کی ہر دل عزیز شخصیت اور دیوانی مقدمات میں ضلع کے صف اول کے وکیل تھے۔غرباء کی ہمدردی اور مدد کیلئے کمر بستہ رہتے۔آپ کی وفات پر ڈسٹرکٹ بار را جن پور کے صدر کی جانب سے پر زور مذمت اور دوروزہ سوگ کا اعلان کیا گیا۔آپ نے اپنے پسماندگان میں پہلی مرحومہ بیوی مکرمہ نعیمہ بشری صاحبہ سے ایک بیٹا سعید احمد صاحب، دو بیٹیاں نمودسحر صاحبہ اور شیریں ثمر صاحبہ ایم ایس سی سائیکالوجی جبکہ دوسری بیوی مکر مہ امتہ المجید صاحبہ سے ایک بیٹی مکر مہ امتہ النور صاحبہ بی اے اور بیٹا حمید احمد صاحب طالب علم بی اے یادگار چھوڑا۔بوقت شہادت سب بچے غیر شادی شدہ تھے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کو اعلی علیین میں جگہ دے اور پسماندگان کا حامی و ناصر ہو۔آمین