شہدائے احمدیت — Page 238
خطبات طاہر بابت شہداء محبت اور خوش خلقی کے ساتھ کی۔228 خطبہ جمعہ ۲۳ جولائی ۱۹۹۹ء آپ دسمبر ۱۹۵۵ء میں اپنے والد محترم کے ہمراہ پاکستان آئے۔تعلیم الاسلام کا لج ربوہ سے بی اے اور لاہور کالج سے ایم۔اے کرنے کے بعد سی ایس پی کے مقابلہ کے امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کی اور پنجاب میں بطور ڈپٹی سیکرٹری فنانس مقرر ہوئے۔متعصب مولوی اگر چہ آپ کے خلاف شدید پراپیگنڈہ کرتے رہے مگر آپ کی ایمان داری اور اعلیٰ کارکردگی کی وجہ سے حکومت ان کو الگ نہ کرسکی بلکہ مزید ترقی کرتے رہے۔ایک موقع پر منفی سفارش کے ساتھ آپ کا معاملہ صدر ضیاء تک بھی پہنچا تو آپ کی ملازمت ختم کرنے کا حکم فوری طور پر جاری کر دیا گیا۔مگر جب گورنر پنجاب جنرل سوار خان نے آپ کی فائل صدر کو بھجوائی کہ دیکھ تو لو یہ کیسا افسر ہے تو اسے دیکھ کر یہ نیا حکم جاری کرنا پڑا کہ سر دست اسے کسی اور جگہ تبدیل کر دیا جائے۔آپ رفاہی کاموں میں دل کھول کر حصہ لیتے تھے اور بزرگ باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آپ ہمیشہ صداقت پر قائم رہے۔۳۰ /اکتوبر ۱۹۹۸ء کی شام کو بعض قاتلوں نے آپ کو احمدیت کے جرم میں بڑی بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔آپ کی شادی محترم الحاج ڈاکٹر محمد سعید صاحب کی صاحبزادی نازی سعید صاحبہ سے ہوئی تھی جو لجنہ اماء اللہ لاہور کی ایک فعال کارکنہ ہیں۔آپ نے اپنے پیچھے بیوہ کے علاوہ ایک بیٹا عبدالعزیز اور دو بیٹیاں فوزیہ رشید اور شیبا رشید چھوڑے۔بیٹا قالینوں کا کاروبار کرتا ہے۔دونوں بیٹیاں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اپنے گھروں میں خوش ہیں۔آپ کے چھوٹے بھائی بشیر شریف صاحب انگلستان میں ہر جماعتی خدمت میں پیش پیش رہتے ہیں اور اللہ کے فضل سے ایک مثالی احمدی ہیں۔مکرم ملک اعجاز احمد صاحب وزیر آباد ملک اعجاز احمد صاحب شہید۔وزیر آباد۔تاریخ شہادت یکم دسمبر ۱۹۹۸ء۔آپ مکرم عنایت اللہ صاحب مرحوم ڈھونیکے تحصیل وزیر آباد کے صاحبزادہ تھے اور ایک نڈر داعی الی اللہ تھے۔آپ کی دعوت الی اللہ کے نتیجہ میں ” جنڈیالہ ڈھاب والا“ میں ایک خاندان کے جملہ افراد کو بیعت کرنے کی توفیق ملی تھی۔اس سے قبل اس گاؤں میں کوئی احمدی نہ تھا۔اپنوں اور غیروں میں آپ