شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 239 of 297

شہدائے احمدیت — Page 239

خطبات طاہر بابت شہداء 229 خطبہ جمعہ ۲۳ جولائی ۱۹۹۹ء کا حلقہ بڑا وسیع تھا۔ڈاکٹر نذیر احمد صاحب شہید کے مقدمہ میں مجرموں کو گرفتار کر وانے میں آپ نے بڑی کوشش کی۔اسی لئے مخالفین آپ کے جانی دشمن ہو گئے۔واقعہ شہادت۔یکم دسمبر ۱۹۹۸ء کو آپ وزیر آباد میں اپنی سیمنٹ ایجنسی میں بیٹھے ہوئے تھے کہ صبح دس بجے کے قریب ایک لڑکا جس نے چادر لپیٹ رکھی تھی آیا اور پوچھا کہ ملک اعجاز کون ہے؟ ملک اعجاز صاحب کے ساتھ آپ کے دوست بیٹھے ہوئے تھے۔آپ نے پوچھا، کیوں کیا بات ہے؟ میں ملک اعجاز ہوں۔یہ سنتے ہی اس لڑکے نے اپنی چادر کے نیچے سے لوڈ کیا ہوا ریوالور نکالا اور آ پر فائر کر دیا۔ملک صاحب کو دو گولیاں لگیں جن سے آپ شدید زخمی ہو گئے۔فائر کرنے کے بعد وہ لڑکا فرار ہونے کے لئے قریبی گلی میں دوڑا مگر ملک صاحب کے ایک دوست اور ملازم نے اہل محلہ کے تعاون سے اسے پکڑ کر حوالہ پولیس کر دیا۔آپ کے دوسرے دوست ٹانگہ میں ڈال کر سول ہسپتال لے گئے جہاں ابتدائی طبی امداد دی گئی۔ابھی آپریشن تھیٹر میں جانے کی تیاری ہورہی تھی کہ مولا کریم کی طرف سے بلاوا آ گیا اور لبیک کہتے ہوئے اپنے مولائے حقیقی سے جاملے۔شہید مرحوم کی اپنی کوئی اولاد نہ تھی۔آپ نے پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ اپنی ایک زمیر کفالت بچی چھوڑی۔جوان دنوں میڈیکل کی طالبہ ہیں۔مکرمہ مبارکہ بیگم صاحبہ چونڈہ مبارکہ بیگم صاحبہ اہلیہ عمر سلیم بٹ صاحب، چونڈہ، سیالکوٹ۔تاریخ شہادت ۹رمئی ۱۹۹۹ ء۔آپ چونڈہ کے ایک مخلص احمدی مکرم عبد اللہ بٹ صاحب کی بیٹی تھیں۔دعوت الی اللہ کا کام بڑے جوش اور جذبہ سے کرتی تھیں۔چنانچہ آپ کی کوششوں سے چونڈہ کے نواحی گاؤں ڈوگر انوالی میں دو بہن بھائی فروری ۱۹۹۹ء میں احمدی ہوئے چونکہ اس گاؤں میں اور کوئی احمدی نہ تھا اس لئے دونوں نو مبائع کو کافی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔آپ نے دونوں کا بہت خیال رکھا اور ہر مشکل میں انہیں حوصلہ اور تسلی دیتی رہیں۔اس مقصد کی خاطر آپ ان کے گاؤں چلی جاتیں۔آخری بار یکم مئی ۱۹۹۹ء کو وہاں گئیں تا کہ ان کے والد کو زیارت مرکز کے لئے ربوہ جانے کا پروگرام بنا ئیں۔نو مبائعین عابد حسین اپنے کسی کام کی غرض سے سیالکوٹ گئے ہوئے تھے لہذا ان کی واپسی کا انتظار کرتے کرتے دیر ہوگئی اور کوئی سواری نہ ملنے کی وجہ سے آپ کو ڈوگر انوالی میں ہی رات ٹھہر نا پڑا۔