شہدائے احمدیت — Page 237
خطبات طاہر بابت شہداء 227 خطبہ جمعہ ۲۳ جولائی ۱۹۹۹ء شہادت ۲۱ مئی ۱۹۹۵ء۔۲۱ مئی ۱۹۹۵ء کی رات کو مکرم نیشنل امیر صاحب بنگلہ دیش کی ہدایت پر مکرم اے ٹی ایم حق صاحب نائب نیشنل امیر کی سربراہی میں ایک وفد بعض جماعتی امور سرانجام دینے کے لئے احمد نگر بھجوایا گیا۔اس وفد میں ان کے ساتھ مکرم عبد الاول خان صاحب مربی سلسله، مکرم رضاء الکریم صاحب سیکرٹری وصایا، مکرم بشیر الدین محمود احمد صاحب اور ڈرائیور مکرم مصطفی علی صاحب ننو بھی شامل تھے۔صبح گیارہ بجے ان کی گاڑی فیری کے ذریعہ دریا جمنا پار کر کے نگر باڑی کھاٹ پر اتری اور آگے کا سفر شروع ہو گیا مگر دو پہر بارہ بج کر بیس منٹ پر رائے گنج تھانہ کے قریب مین روڈ پر ایک ٹرک سے ٹکرا گئی جس کے نتیجہ میں مکرم اے ایم ٹی حق صاحب تو موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ کار کے ڈرائیور مکرم مصطفی علی ننو صاحب بوگڑا ہسپتال پہنچتے ہوئے رستہ میں وفات پاگئے۔انا للہ و انا اليه راجعون مکرم اے ٹی ایم حق صاحب بہت ہی نیک اور مخلص احمدی تھے۔یہ پہلے پیر پرست اور قبر پرست مسلمان تھے۔۱۹۶۰ء کے قریب خود احمدیت قبول کی۔مریض ہونے کے باوجود یہ جماعت کے کاموں میں تقریباً روزانہ حاضر ہوا کرتے تھے۔بہت ہی صاف گو، نفاست پسند اور خوش پوش بزرگ تھے۔بوقت شہادت عمر ۷۵ سال تھی۔شہید مرحوم نے اپنے پیچھے تین بیٹے اور چار بیٹیاں چھوڑیں۔تینوں بیٹے ماشاء اللہ نہایت مخلص اور فدائی احمدی ہیں۔شهید مصطفی علی ننو صاحب بھی بڑے نرم مزاج تھے اور با اخلاق نوجوان تھے آپ مکرم رمیز الدین صاحب آف احمد نگر کے بیٹے تھے۔جماعت کی گاڑی چلانے کے علاوہ ٹائپسٹ کا کام بھی کرتے تھے۔آپ کی شادی ہوئے تھوڑا عرصہ ہی ہوا تھا۔کوئی بچہ نہیں ہوا۔پسماندگان میں صرف ایک بیوہ چھوڑ ہیں۔مکرم چودھری عبدالرشید شریف صاحب لاہور چودھری عبدالرشید شریف صاحب شہید ، لاہور۔تاریخ شہادت ۳۰ را کتوبر ۱۹۹۸ء۔آپ مولا نا چودھری محمد شریف صاحب مرحوم سابق مبلغ بلاد عربیہ و مغربی افریقہ اور محترمہ فضل بی بی صاحبہ مرحومہ کے بیٹے تھے۔حیفا فلسطین میں ۱۹۴۱ء میں پیدا ہوئے ابھی صرف دو سال کے تھے کہ والدہ وفات پاگئیں۔آپ کی پرورش آپ کی دوسری والدہ محترمہ حکمت عباس عودہ صاحبہ نے نہایت ہی