شہدائے احمدیت — Page 112
خطبات طاہر بابت شہداء 103 خطبہ جمعہ ۴ / جون ۱۹۹۹ء پابند صوم وصلوۃ ، بہت ملنسار، خلیق اور مخلوق خدا کا در درکھنے والے وجود تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت تھی۔خلفاء سلسلہ سے بہت عقیدت رکھتے تھے اور امام وقت کے ہر حکم پر لبیک کہنے والے تھے۔اسلام اور احمدیت کی تبلیغ بے دریغ اور والہانہ انداز میں کیا کرتے تھے۔آپ کی ڈسپنسری میں ہمہ وقت جماعتی لٹریچر موجود رہتا تھا۔نائیجیر یا جماعت کے جملہ افراد آپ کی شخصیت سے بڑے متاثر تھے اور آپ سے گہری محبت اور احترام کا تعلق رکھتے تھے۔سانحہ ارتحال - ۱/۵اپریل ۱۹۶۹ء کے جلسہ سالا نہ نائیجیریا کے موقع پر صبح کے سیشن کی صدارت کی نماز اور طعام کے وقفہ کے لئے گھر جاتے ہوئے رستہ ہی میں دل کا دورہ پڑا۔آپ کی میت ربوہ لائی گئی جہاں حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور پھر موصی ہونے کے باعث بہشتی مقبرہ میں تدفین ہوئی۔تدفین کے بعد حضور نے دعا کروائی۔آپ کی اولا د جس شادی سے بفضلہ تعالیٰ زندہ رہی اور دین اور دنیا میں نشو و نما پارہی ہے وہ آپ کی تیسری شادی تھی جو اپنے ماموں سید احمد شاہ صاحب مرحوم کی صاحبزادی تاج سلطانہ صاحبہ سے ہوئی جن سے دو بچے ہیں۔ایک سید محمد یحی خضر صاحب حال لا ہور اور دوسرے سید محمد عیسی پرویز صاحب فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد سول ایوی ایشن کے محکمہ میں بطور جنرل مینیجر کام کر رہے ہیں۔میں گواہ ہوں کہ یہ دونوں بچے خدا کے فضل سے بہت ہی فدائی ہیں سلسلہ کے ادنیٰ خادم ہیں اور ان کی اولاد کو بھی اللہ تعالیٰ نے برکت عطا فرمائی ہے۔آپ کی اہلیہ سیدہ تاج سلطانہ کی وفات ۱۹۹۲ء میں کراچی میں ہوئی اور چونکہ موصیبہ تھیں بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئیں۔مولانا ابوبکر ایوب صاحب مولانا ابوبکر ایوب صاحب انڈونیشیا کے رہنے والے تھے۔تاریخ وفات ۱۵،۱۴ ستمبر ۱۹۷۲ء کی درمیانی رات۔مولانا ابوبکر الیوب انڈونیشیا کے ان اولین احمدیوں میں سے تھے جو ۱۹۲۴ء میں قادیان آئے۔وہاں انہیں بیعت سے مشرف ہونے اور پھر دینی تعلیم حاصل کرنے کی توفیق ملی۔یعنی جب قادیان آئے تھے تو اس وقت احمدی نہیں تھے۔آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کا امتحان بھی پاس کیا۔آپ کو انڈونیشیا کے علاوہ ہالینڈ میں بھی تبلیغی فرائض سرانجام دینے کی توفیق ملی۔آپ کا وصال ہالینڈ میں ہی ڈیوٹی پر مامور ہونے کی حالت میں ہوا۔