شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 111 of 297

شہدائے احمدیت — Page 111

خطبات طاہر بابت شہداء 102 خطبہ جمعہ ۴ / جون ۱۹۹۹ء اپنے گاؤں میں بیٹھا ہوا ہو تو اس کی وہاں وفات ہو چکی ہو۔پس اس پہلو سے یہ فہرست حد سے زیادہ پھیل جاتی اور کوئی معین جواز نہ ہوتا ایسے دوستوں کو شہداء قرار دینے کا۔ویسے تو واقفین زندگی جو بچے ہوں ان کی موت خدا تعالیٰ کے نزدیک یقیناً ایک بہت بڑا مقام رکھتی ہے اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کو کیا مراتب نصیب ہوں گے۔پس یہاں مراتب کی بحث نہیں ہو رہی یہاں لفظ شہید کے اطلاق کی بات ہورہی ہے۔پس اس ضمن میں جو میں نے فیصلہ کیا وہ اصولی طور پر یہ ہے کہ اپنے ہی ملک میں جو واقفین زندگی کام کرتے ہوئے حادثہ کا شکار ہو جائیں انہیں ہم نے بوجہ حادثاتی وفات کے شہداء میں شمار کیا ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حادثاتی وفات کو بھی شہداء کے زمرہ میں شمار فرمایا ہے۔جو کسی دوسرے ملک میں کام کرتے ہوئے چاہے حادثہ سے فوت ہوئے ہوں یا کسی اور طرح ان کی وفات ہوئی ہوا نہیں بھی شہداء کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔ہر واقف زندگی جو طبعی موت سے اپنے ہی ملک میں کام کرتے ہوئے وہاں کسی بھی جگہ فوت ہوا ہو جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے خدا کے ہاں اس کا جو بھی مرتبہ ہو ہم نے اسے شہداء کی فہرست میں شامل نہیں کیا۔اس اصول کا بڑی سختی سے اطلاق کرتے ہوئے جو واقفین شہداء کی فہرست تیار ہوئی ہے اب میں پہلے سلسلے سے بات شروع کر کے جہاں بات کو چھوڑا تھا اب آگے بڑھاتا ہوں۔ڈاکٹر محمد یوسف شاہ صاحب اور آج اس خطبہ کا آغاز ڈاکٹر محمد یوسف شاہ صاحب کی شہادت کے واقعہ سے تعلق رکھتا ہے۔حضرت ڈاکٹر محمد یوسف صاحب سید معصوم شاہ صاحب کے ہاں موضع مدینہ ضلع گجرات میں ۱۶ فروری ۱۹۰۰ء میں پیدا ہوئے۔آپ نے عین جوانی کے عالم میں ، طالب علمی کے دور میں ۱۹۱۸ء میں بیعت کی اور ۱۹۳۰ء میں اپنے آپ کو نظام وصیت سے منسلک کر دیا۔آپ نے گورنمنٹ میں فوجی ڈاکٹر کے طور پر کام کرنا شروع کیا اور لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے تک پہنچے۔۱۹۶۰ء میں آپ نے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی زندگی بعد ریٹائر منٹ وقف کر دی۔چنانچہ یکم نومبر ۱۹۶۱ء کو آپ خدمت دین کے لئے لیگوس نائیجیر یا پہنچے۔آپ نے لیگوس میں احمد یہ ہسپتال کی بنیاد ڈالی۔آپ کے اوصاف حمیدہ جن کے بیان میں کوئی بھی مبالغہ نہیں وہ مختصر یہ ہیں کہ آپ بے انتہا