شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 113 of 297

شہدائے احمدیت — Page 113

خطبات طاہر بابت شہداء 104 خطبہ جمعہ ۴ / جون ۱۹۹۹ء مولوی صاحب موصوف نہایت نیک فطرت ، ملنسار، خوش اخلاق، شیریں گفتار اور بے حد محنتی تھے۔لباس کی عمدگی اور صفائی کا بڑا خیال رکھتے تھے۔وقت کے بہت پابند تھے۔شیریں گفتار تھے۔مجھے بھی اس زمانہ میں جب یہ ہالینڈ میں تھے وہاں ان سے ملنے کی توفیق ملی تھی اور میں نے خصوصیت سے یہ بات محسوس کی تھی کہ بہت ستھرا اور صاف لباس پہننے کے عادی تھے اور کافی (Coffee) بنانے میں بہت ماہر تھے۔چنانچہ سب سے پہلا کافی کا چسکا مجھے ان کی بنی ہوئی کافی سے ہوا تھا۔آپ نے مختصر علالت کے بعد سڑسٹھ (۶۷) سال کی عمر میں وفات پائی۔بوقت وفات آپ وہاں کے مشنری انچارج تھے۔آپ کی میت ربوہ پہنچائی گئی جہاں۲۳ ستمبر ۱۹۷۲ء کو نماز جمعہ کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے مسجد اقصیٰ میں آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے۔آپ کے وصال کے وقت آپ کے بچے انڈو نیشیا میں مقیم تھے۔آپ نے اپنی بیوہ کے علاوہ چار بیٹے اور چار بیٹیاں بطور یادگار چھوڑے۔آپ کے بڑے بیٹے انہیں احمد یعقوب صاحب اس وقت جکارتہ میں ایک انجینئر نگ کمپنی میں ڈائریکٹر ہیں اور دو بیٹے عبدالحمید صاحب اور عبدالمغنی صاحب بھی جکارتہ میں رہتے تھے۔اول الذکر ملازم ہیں اور دوسرے بزنس مین ہیں۔چاروں بیٹیاں شادی شدہ ہیں اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا خاص احسان ہے کہ جہاں ان کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ترقی عطا فرمائی ہے ان کی اولاد کو دین میں بھی بہت مخلص بنایا ہے اور یہ سارے بچے خدا تعالیٰ کے فضل سے سلسلہ کے مخلص خادم ہیں۔مکرم ظاہر احمد صاحب، مکرم جوا درشید خان صاحب اور مکرم خواجہ اعجاز احمد صاحب لاہور اب ظاہر احد صاحب، جواد رشید احمد خان صاحب ایڈووکیٹ نائب قائد ضلع لا ہور اور خواجہ اعجاز احمد صاحب ناظم اطفال ضلع لاہور کی شہادت کا واقعہ بیان کرتا ہوں۔سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث لاہور سے ربوہ آرہے تھے۔لاہور کے خدام کا ایک گروپ جو پانچ افراد پر مشتمل تھا، حفاظتی نقطہ نظر سے حضور انور کے قافلہ کے پیچھے آرہا تھا۔پنڈی بھٹیاں سے چھ کلو میٹر دور ایک ٹرک کو اوور ٹیک کیا تو سامنے ایک سائیکل سوار کو دیکھ کر اسے بچانے کے لئے کار روکنے کی کوشش کی اور اسی کوشش میں کار ایک درخت سے جاٹکرائی جس سے مکرم ظاہر احمد صاحب، مکرم خواجہ اعجاز احمد صاحب