شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 90 of 297

شہدائے احمدیت — Page 90

خطبات طاہر بابت شہداء 59 85 شہید مربیان کا تذکرہ ( خطبه جمعه فرموده ۲۸ رمئی ۱۹۹۹ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے سورہ بقرہ کی یہ آیات تلاوت فرمائیں: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِيْنُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّبِرِينَ وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاء وَلَكِنْ لَّا تَشْعُرُونَ (البقرة :۱۵۴ - ۱۵۵) اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو صبر اور صلوٰۃ پر قائم رہتے ہوئے صبر اور صلوۃ کے ذریعہ استعانت طلب کرو۔یقینا اللہ تعالیٰ صابرین کے ساتھ ہے۔اور جو راہ خدا میں قتل کئے جائیں انہیں مردے نہ کہو بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تم شعور نہیں رکھتے۔یہ وہی سلسلہ شہادات ہے جو ایک لمبے عرصہ سے جاری ہے اور ایک لمبے عرصہ تک جاری رہے گا۔اس دفعہ جن شہداء کا ذکر کیا جارہا ہے یہ وہ ہیں جن کو براہ راست دشمن نے قتل نہیں کیا بلکہ راہ خدا میں خدمت کرتے ہوئے وفات پاگئے۔پس اس پہلو سے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ یہ بھی راہِ خدا کے شہداء میں شمار ہونے چاہئیں۔اس ضمن میں جو فہرست میں نے تیار کی ہے سردست اس میں سب سے پہلا نمبر مرزا احمد شفیع صاحب مرحوم کے بھائی مرزا منور احمد صاحب کا آتا ہے لیکن اس ضمن میں ایک گزشتہ خطبہ میں خطبہ جمعہ ۲۸ رمئی ۱۹۹۹ء