شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 91 of 297

شہدائے احمدیت — Page 91

خطبات طاہر بابت شہداء 86 خطبہ جمعہ ۲۸ رمئی ۱۹۹۹ء ایک یادداشت کی خرابی کی وجہ سے یا بے توجہی کی وجہ سے غلط بات کہہ دی گئی تھی اس کو درست کرنا چاہتا ہوں۔مرزا احمد شفیع صاحب مرحوم کے صاحبزادے مرزا مسیح احمد صاحب نے جرمنی سے یہ درستی کروائی ہے بالکل معمولی سی بات تھی مگر بہر حال خطبات میں درستی ہوئی ضروری ہے۔امتہ الرحمن صاحبہ مرحومہ کے ساتھ جو بیٹی رہتی تھیں ان کا نام میں نے غلطی سے امتہ الباسط کہ دیا تھا۔اس بیٹی کا نام امۃ القیوم ہے اور امتہ القیوم اب شادی شدہ ہیں اور سرگودھا میں مقیم ہیں جبکہ امتہ الباسط صاحبہ لندن میں رہتی ہیں اور یہ ہیں وہ جو فضل اور شیلا کی والدہ ہیں۔پس اس درستی کے بعد اب میں ان شہداء کا ذکر کرتا ہوں۔حضرت شہزادہ عبدالمجید صاحب ایران سب سے پہلے شہزادہ عبدالمجید صاحب تاریخ شہادت ۲۲ فروری ۱۹۲۸ء کا ذکر کرتا ہوں جن کا مدفن تہران میں ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ۱۲؍ جولائی ۱۹۲۴ء کو شہزادہ عبدالمجید صاحب لدھیانوی کو ایران میں احمد یہ مرکز قائم کرنے کے لئے روانہ فرمایا۔آپ کے ہمراہ مولوی ظہور حسین صاحب اور محمد امین خان صاحب بھی تھے جن کو بخارا میں احمدیت کا پیغام پہنچانے کا حکم دیا گیا تھا۔حضرت شہزادہ صاحب جو اس تبلیغی وفد کے امیر بھی تھے اپنے دوسرے ساتھیوں سمیت ۱۶ اکتوبر ۱۹۲۴ء کو ایران کے مشہور شہر مشہد میں پہنچے اور پانچ چھ دن کے بعد مشہد سے تہران میں تشریف لے گئے اور وہاں نیا دار التبلیغ قائم کیا۔حضرت شہزادہ عبدالمجید صاحب ضعیف العمر بزرگ اور قدیم صحابہ میں سے تھے اور نہایت اخلاص سے اپنے خرچ پر آئے تھے۔مگر یہاں آکر خرچ ختم ہو گیا۔پیچھے کوئی جائیداد نہیں تھی۔مرکز سے مستقل مالی امداد ان کو نہیں دی جارہی تھی۔آپ معمولی سی صف اور نہایت مختصر سے بستر پر رات بسر کیا کرتے تھے یہاں تک نوبت آجاتی تھی کہ کپڑے دھونے کے لئے صابن کا خرچ نہیں رہتا تھا۔بایں ہمہ آپ نے آخر دم تک اپنے عہد کو نبھایا اور بے نفس خدمات سے با قاعدہ وہاں جماعت قائم کر دی۔۲۲ فروری ۱۹۲۸ء کو تہران میں انتقال فرما گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے ان کی وفات پر فرمایا: ”شہزادہ عبدالمجید صاحب افغانستان کے شاہی خاندان سے تھے اور شاہ شجاع کی نسل سے تھے۔آپ نہایت ہی نیک نفس اور متوکل آدمی