شہدائے احمدیت — Page 81
خطبات طاہر بابت شہداء 76 خطبه جمعه ۴ ارمئی ۱۹۹۹ء مطابق مجھے پانچ آدمیوں کے ہمراہ بھیج دیا کہ آپ لوگ جا کر رائفل تلاش کر لائیں۔جب ہم وہاں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ کنویں کے ساتھ رہی نہیں ہے جس کے ذریعہ کنویں میں اترا جاوے۔میں نے کسی چیز کو تلاش کرنے کی کوشش کی اور کنویں میں چھلانگ لگا دی۔چھلانگ لگاتے ہی میری پشت پر ایک برچھی جنس گئی۔مجھے بہت زیادہ تکلیف ہوئی لیکن میں نے اس کی پروا کئے بغیر کنویں میں غوطہ لگایا لیکن کنویں میں کوئی راکفل نہیں تھی۔ایک غلط اطلاع تھی یا کسی نے دیکھ لیا ہوگا راکفل پھینکتے ہوئے اور ان کے پہنچنے سے پہلے نکال لی۔صرف تین چار بر چھیاں تھیں جن میں سے ایک برچھی نے ان کو زخمی کیا۔واپسی پر راجن پور کے قریب ہم نے دیکھا کہ کچھ سکھ وہاں سے نکل رہے ہیں۔ہم پر واہ کئے بغیر آگے بڑھ گئے لیکن عبدالرحمن صاحب حوالدار پیچھے ہی رہ گئے۔جب سکھوں نے دیکھا تو بھاگ کر آئے اور موقع پر ہی عبدالرحمن صاحب کو شہید کر دیا۔ہمیں اس واقعہ کی اطلاع بعد میں ملی۔ہم جب تلونڈی چھنگلاں پہنچے تو پیچھے سے آنے والے کسی آدمی نے بتایا کہ عبدالرحمن کو سکھوں نے مار دیا ہے اور لاش کماد میں پھینک دی ہے۔یعنی گنے کے کھیت میں۔ہم لوگ وہیں سے جائے واردات کی طرف لوٹے اور عبدالرحمن کی لاش کو حفاظت سے واپس لے آئے۔تو یہ روح تھی جو اس زمانہ میں کارفرم تھی۔عظیم بہادری کے نمونے دکھائے ہیں مجاہدین نے اور امر واقعہ یہ ہے کہ آپ تلاش کر کے دیکھیں تاریخ میں۔اسلام کی اولین تاریخ کے سوا آپ کو اس قسم کی بیباک شہادتوں اور قربانیوں کے واقعات اور نظر نہیں آئیں گے۔میں امید رکھتا ہوں کہ آپ ان واقعات کو ہمیشہ اپنے دل کی دنیا میں آباد رکھیں گے اور آپ کے دل کی دنیا ان واقعات کی یاد سے جگمگاتی رہے گی اور انہی میں سے، انہی لوگوں میں سے جن کے دلوں میں یہ یادیں وابستہ ہیں آسمانِ احمدیت پر چمکنے والے ستارے بھی پیدا ہوں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔