شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 80 of 297

شہدائے احمدیت — Page 80

خطبات طاہر بابت شہداء 15 75 خطبہ جمعہ ۴ ارمئی ۱۹۹۹ء علم ہوا یعنی بہکتے بہکتے پھرتے ہوئے بعض احمدی دوستوں کی نظر میں آگئے اور وہ ان کو پکڑ کے قادیان لے آئے اور جہاں تک شہداء کا تعلق ہے کچھ عرصہ کے بعد احباب ان کے اشارے پر وہاں پہنچے اور ان کی لاشوں کو دفن کر دیا۔مکرم عبد الرحمن صاحب اب آخری ذکر مکرم عبدالرحمن صاحب شہید کا ہے۔یعنی اس سلسلہ میں جو شہادتیں ہوئی ہیں قادیان میں تقسیم کے وقت ان شہادتوں میں یہ آخری فرکر میں کر رہا ہوں اس کے بعد یہ تذکرہ ابھی لمبا ہے اور بہت دیر تک چلتا رہے گا۔ابھی تو حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے زمانے کی شہادتوں کا دور ہے بہت عظیم دور ہے۔پھر اس عاجز کے زمانے میں خدا تعالیٰ نے جو بعض لوگوں کو شہید ہونے کی توفیق بھی دی ان کا بھی ذکر ہوگا تو یہ سلسلہ اللہ بہتر جانتا ہے کب تک چلے گا۔ہوسکتا ہے جلسہ سالانہ تک یہ خطبات کا سلسلہ اسی طرح جاری رہے اور اس کے نتیجہ میں انشاء اللہ تعالیٰ جو معلومات اکٹھی ہوں گی ان کے علاوہ جو شہداء کے خاندان ہیں خصوصاً ان کے دل میں اپنے ماں باپ کی قربانیاں احمدیت کے ساتھ ایک غیر معمولی وابستگی پیدا کر دیں گی ، وابستگی ہے تو اس وابستگی کو اور بھی چمکا دیں گی اور میں یقین رکھتا ہوں کہ شہادتوں کا یہ سلسلہ، سلسلہ وار آگے بڑھتا رہے گا اور اگلی صدی تک ان کی یادیں اور شہداء بھی پیدا کرتے رہیں گے۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ یہ سلسلہ جو شہداء کے ذکر کا چلا ہے یہ بہت با برکت ثابت ہوگا۔کیپٹن نور احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ عبد الرحمن صاحب شہید پیروشاہ کے رہنے والے تھے اور فوج میں حوالدار تھے اور بڑے بہادر تھے۔ہماری ملاقات حفاظت مرکز کے سلسلہ میں قادیان میں ہوئی۔واقعۂ شہادت یہ ہے کہ کیپٹن صاحب موصوف بیان کرتے ہیں کہ ہمیں کسی شخص نے تلونڈی جھنگلاں میں یہ اطلاع دی کہ دھوپ سڑی میں ہم نے کنویں میں تھری ناٹ تھری کی رائفل پھینک دی ہے۔ان حالات میں اس زمانے میں تھری ناٹ تھری کی رائفل کی احمدیوں کے نزدیک بڑی قدر تھی کیونکہ دشمنوں نے تو مشہور کیا تھا کہ بے انتہا اسلحہ ہے لیکن بہت معمولی اسلحہ تھا۔ایک تھری ناٹ تھری رائفل کے لئے مجاہد جان دینے کے لئے تیار بیٹھے تھے کیونکہ اس رائفل کے ذریعہ کئی لوگوں کی جانیں بچائی جاسکتیں تھیں۔تو مکرم کیپٹن شیر ولی صاحب نے کیپٹن نوراحمد صاحب کے بیان کے