شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 68 of 297

شہدائے احمدیت — Page 68

خطبات طاہر بابت شہداء 80 63 سید محبوب عالم صاحب بہاری خطبہ جمعہ ۴ ارمئی ۱۹۹۹ء ایک اور بزرگ سید محبوب عالم صاحب بہاری کی شہادت کا واقعہ بھی یوں درج ہے کہ ۱۹ار ستمبر ۱۹۴۷ء کو سید محبوب عالم صاحب بہاری جن کا خاندان اس وقت انگلستان میں اور ہر جگہ اور بھی گیا لیکن انگلستان میں خصوصیت کے ساتھ ان کی اولا د بس رہی ہے۔سید صاحب ایک نیک اور بہت بے نفس بزرگ تھے۔۱۹ ستمبر ۱۹۴۷ء کی صبح کو نماز کے بعد ریلوے لائن کے ساتھ سیر کے لئے گئے۔اب بہادری دیکھیں باوجود اس کے کہ حالات بے انتہا خراب تھے، گھر میں ٹھہرنے کا حکم تھا مگر بزدلی کے ساتھ نہیں ٹھہرے۔جو سیر کا دستور تھا جاری رکھا اور ریلوے لائن کے ساتھ باقاعدہ صبح سیر پہ جایا کرتے تھے لیکن ڈی۔پی۔سکول قادیان کے قریب موضع رام پور کے بالمقابل کسی نے انہیں گولی کا نشانہ بنایا۔شروع میں تو انہیں لا پتہ تصور کی جاتا رہا لیکن وہ جو احمدی والنٹیئر ز کے دستے جایا کرتے تھے اس مکان میں ان کو موجود نہیں دیکھا تھا۔اس مکان میں ان کا نہ پا کر یہی سمجھتے رہے کہ لاپتہ ہیں۔شاید کسی اور کے مکان میں چلے گئے ہوں مگر اس واقعہ کے تین دن کے بعد ایک مسلمان دیہاتی نے جو پناہ گزین کے طور پر باہر سے آیا ہوا تھا سید صاحب کے داما دسید صادق حسین صاحب کو بتایا کہ میں نے اس حلیہ کے ایک مسلمان کی لاش جس کے گلے میں نیلا کر نہ تھا اور یہ نیلا کرتا انہوں نے ہی پہنا ہوا تھا ریلوے لائن کے قریب پڑی ہوئی دیکھی تھی۔انا للہ وانا اليه راجعون۔پس ان کی نعش کا تین دن بعد پتہ چلا اور ان کو دفنانے کا بھی کوئی انتظام نہ ہو سکا۔شمسہ سفیر لنڈن سے بیان کرتی ہیں کہ میرے نانا جان سید محبوب عالم صاحب اور ان کے بھائی سیدمحمود عالم صاحب جب انہوں نے احمدیت کا پیغام سنا تو بہار سے پیدل چل کر قادیان آئے تھے۔یہ جو واقعہ ہے اس کا میں نے دوبارہ انگلستان سے پتہ کروایا ہے کیونکہ جہاں تک جماعت کی تاریخ محفوظ ہے میں نے اصل رجسٹر پڑھے ہیں جن میں ابتدائی احمدیوں کے ، صحابہ کے بڑے عظیم الشان واقعات درج ہیں۔کس طرح انہوں نے غیر معمولی قربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قادیان آ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی۔مجھے یہ خیال تھا کہ غالبا سید محبوب عالم صاحب بھی انہیں میں سے ہیں۔چنانچہ انگلستان سے جب تصدیق کروائی گئی تو شمسہ سفیر صاحبہ نے یہ تصدیق بھیجی ہے کہ اولاد میں صرف ایک ہی بیٹی تھی جو میری والدہ تھیں اور ان کا نام سلمی تھا۔پندرہ برس کی عمر میں ان