شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 67 of 297

شہدائے احمدیت — Page 67

خطبات طاہر بابت شہداء 62 خطبہ جمعہ ۴ ارمئی ۱۹۹۹ء تھی اس وقت ان کو یقیناً موقع مل جاتا تھا احمدیوں کو شہید کرنے کا اور بعض غیر احمدی مسلمانوں کو شہید کرنے کا۔یہ جو واقعہ میں بیان کر رہا ہوں یہ غالباًا رستمبر ۱۹۴۷ء کو جب قادیان پر ایک بہت بڑا حملہ ہوا ہے اس وقت پیش آیا۔اس حملے کا زور زیادہ تر حلقہ مسجد فضل پر پڑا تھا۔مستورات اور بچوں کو محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا تھا۔یعنی احمدی والنٹیئر جو خدمت کر رہے تھے جنہوں نے ہر قسم کا خطرہ مول لے کر تمام مستورات اور بچوں کو وہاں سے نکال لیا تھا۔مولانا جلال الدین صاحب قمر بیان کرتے ہیں کہ میرے والد صاحب اپنے گھر کے بالا خانے پر بیٹھے ہوئے تھے۔اس گھر کے سامنے ایک منزلہ کچے مکانات تھے۔ایک سکھ پولیس مین ان گھروں کی چھتوں پر چڑھ آیا۔بالا خانے کی کھڑکی اس طرف کھلتی تھی۔قانون کے اس محافظ کی نظر میرے والد صاحب پر پڑی۔غالباً وہ اپنے افکار میں مگن تھے اور ان کی نظر پولیس مین پر نہیں پڑی۔اس پولیس مین نے اچانگ گولی چلا دی اور انہوں نے اپنے خون میں لت پت تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔انا لله وانا اليه راجعون۔آپ کی شہادت کا منظر ایک دوسرے بالا خانے میں بیٹھے ہوئے ایک احمدی دوست دیکھ رہے تھے جن میں چوہدری محمد حسین صاحب کلرک نظامت جائیداد بھی تھے۔موجود احمد یوں نے نماز جنازہ پڑھ کر تن کے کپڑوں میں ان کو دفنا دیا۔اس سلسلہ میں ضمناً ذکر کر دینا چاہتا ہوں کہ جولوگ اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے تھے باوجود اس کے کہ خطرہ بہت سخت تھا وہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے حکم کی بنا پر بیٹھے ہوئے تھے۔اس لئے خواہ انہوں نے مقابلے میں حصہ لیا ہو یا نہ لیا ہو بڑی دلیری کے ساتھ اس خیال سے کہ قادیان کا یہ تاثر نہ پڑے کہ قادیان کے باشندے اپنے مکان چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں جس کے نتیجہ میں بہت بڑا ریلا قادیان کے اوپر آسکتا تھا۔اس خطرے کو دور کرنے کی خاطر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے حکم دیا تھا کہ ہر احمدی اپنے مکان پر پہرہ دے۔صرف وہ اپنے مکان سے باہر جائیں جن کو با قاعدہ نظام جماعت کے تحت کسی مصلحت کے پیش نظر نکالا جائے خصوصاً ان میں عورتیں اور بچے شامل ہوا کرتے تھے۔اس لئے ان اکیلے اکیلے لوگوں کا اپنے گھروں میں بیٹھے رہنا یقیناً ایک بہت عظیم شہادت ہے کیونکہ سلسلہ کے وقار کی خاطر انہوں نے اپنی جان کا خطرہ مول لیا ہوا تھا۔