شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 65 of 297

شہدائے احمدیت — Page 65

خطبات طاہر بابت شہداء 60 60 خطبہ جمعہ ۴ ارمئی ۱۹۹۹ء میں قادیان سے ہجرت سے پہلے جو شہادتیں ہوئی تھیں ان کا ذکر چلے گا۔حفاظت مرکز کے سلسلے میں قادیان اور اس کے نواح میں جو شہادات ہوئی ہیں ان کو جیسا کہ میں نے پچھلے خطبہ میں ذکر کیا تھا دو ہرا امتیاز حاصل ہے کیونکہ ان مسلمانوں کے دفاع میں جن کا قصور صرف مسلمان ہونا تھا ، جن کا قتل عام کیا جارہا تھا ، ان کے دفاع میں احمدیوں نے ان کو بچانے کی خاطر جو جانیں دیں ہیں یہ غیر معمولی عظمت کی شہادتیں ہیں اور جیسا کہ ان کا ذکر چلے گا آپ حیران ہوں گے کس بہادری کے ساتھ موت کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے ہوئے وہ لوگ آگے بڑھے اور خدا کی راہ میں اپنی جانیں پیش کر دیں۔جمعدار محمد اشرف صاحب شہید پہلا ذکر جمعدار محمد اشرف صاحب شہید کا ہے جن کی تاریخ شہادت ۲ ستمبر ۱۹۴۷ء ہے۔مجھے افسوس ہے ہماری تاریخ میں ان لوگوں کے متعلق تفصیلات اکٹھی نہ کی گئیں لیکن اب جو سلسلہ شروع ہوا ہے اس کے نتیجہ میں بہت سے شہداء کے پسماندگان خود وہ اطلاعیں بھجوا رہے ہیں جو ہماری تاریخ میں اس وقت محفوظ نہیں ہیں۔وہ لکھ رہے ہیں کہ ہم ان کے بچے کتنے تھے، کہاں کہاں گئے ، اللہ تعالیٰ نے ان سے کیا سلوک کیا ، دشمنوں سے کیا سلوک کیا وغیرہ وغیرہ۔غرضیکہ اس مبارک سلسلہ کے نتیجہ میں ایک اور سلسلہ معلومات کا اکٹھا ہونا شروع ہو گیا ہے جس کے نتیجہ میں ہماری تاریخ اور زیادہ سنورتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔جمعدار محمد اشرف صاحب کے متعلق تاریخ احمدیت میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے روز نامچے کے حوالے سے یہ درج ہے کہ ۲ ستمبر ۱۹۴۷ء کو مسلمانوں کے گاؤں سٹھیالی پر جہاں خود حفاظتی کے خیال سے علاقے کے اور کوئی مسلمان دیہات بھی جمع تھے، بہت بڑا گاؤں تھا سٹھیالی ، مسلمانوں کا اور وہاں اردگرد کے دیہات کے مسلمان بھی پناہ کے لئے اکٹھے ہو گئے تھے وہاں سکھوں کے حملے کا آغاز ہوا اور اس حملہ کے دوران جمعدار محمد اشرف صاحب ان مسلمانوں کی حفاظت کے لئے سٹھیالی بھجوائے گئے تھے۔وہاں برین گن کے فائر سے شہید ہوئے۔جمعدار صاحب مرحوم احمد یہ کمپنی 8/15 پنجاب رجمنٹ سے جنوری ۱۹۴۷ء میں فارغ ہوئے تھے اور قادیان تشریف لے آئے تھے۔۲۵ اگست ۱۹۴۷ء کو آپ نے حفاظت مرکز کے لئے اپنی خدمات پیش کیں۔۲۶ / اگست کو