شہدائے احمدیت — Page 66
خطبات طاہر بابت شہداء 61 خطبہ جمعہ ۴ ارمئی ۱۹۹۹ء جناب کیپٹن شیر ولی صاحب کے حکم سے صوبیدار عبدالمنان صاحب دہلوی ، عبدالسلام صاحب سیالکوٹی ، حوالدر میجر محمد یوسف صاحب گجراتی ، محمد اقبال صاحب اور عبدالقادر صاحب کھارے والے، غلام رسول صاحب سیالکوٹی ، فضل احمد صاحب اور عبدالغفار صاحب ان کے ہمراہ یہ سٹھیالی پہنچے جہاں سکھوں نے رائفل ،ٹین گن ، برین گن اور گرینیڈ کے بے دریغ استعمال کیا۔جمعدار محمد اشرف صاحب اور صو بیدار عبدالمنان صاحب دہلوی اور محمود احمد صاحب عارف تینوں بڑی بہادری اور جرات سے دفاع کر رہے تھے کہ یکا یک برین گن کا برسٹ جمعدارمحمد اشرف صاحب کے ماتھے پر لگا اور وہ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔انا للہ وانا اليه راجعون۔میاں علم الدین صاحب دوسری شہادت جس کا ذکر تاریخ میں ملتا ہے وہ میاں علم الدین صاحب کی ہے۔تاریخ شہادت ۶ ستمبر ۱۹۴۷ء۔آپ کی پیدائش غالبا ۱۸۹۸ء کی ہے۔منگل باغبان نز دقادیان میں کچھ عرصہ سکونت پذیر رہے۔پھر ۱۹۳۲ء میں قادیان منتقل ہو گئے۔اولاً حلقہ مسجد مبارک اور پھر حلقہ مسجد فضل میں سکونت اختیار کی۔آپ کو تبلیغ کا بہت شوق تھا۔ہر سال اس سلسلہ میں گرمیوں کے موسم میں دریائے بیاس کے پاس اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو ضرور ملنے جایا کرتے تھے۔آپ کی تبلیغ کی بدولت ان میں سے بعض کو قبول احمدیت کی توفیق ملی۔آپ مولانا جلال الدین صاحب قمر کے والد تھے۔واقعہ شہادت یوں بیان ہوا ہے کہ قادیان پر جب پولیس اور فوج کی مدد سے جنہوں نے حملے شروع کئے تو فوج قادیان پر کرفیو لگا دیتی تھی اور اہل قادیان کو قانونی زنجیروں میں جکڑ کر غیر مسلم جتھوں کو کھلا چھوڑ دیتی تھی کہ وہ من مانی کریں لیکن اس کے باوجود غیر مسلم جتھوں کو احمدیوں کا مقابلہ کرنے کی جرات نہ ہوتی تھی۔کچھ تو ویسے ہی اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ رعب کے ذریعے ہماری مدد کی جائے گی۔اصل وجہ تو یہی ہے جو وعدہ ہم نے بار ہا پورا ہوتے دیکھا ہے لیکن اس مدد دینے کے تعلق میں غیروں کا جھوٹ بھی شامل ہو جایا کرتا تھا جو ان کے خلاف کام کرتا تھا۔اس قدر کثرت سے انہوں نے قادیان کے اسلحے سے متعلق مشہور کر رکھا تھا کہ سکھ باوجود جتھوں کے، باوجود اس کے کہ فوج اور پولیس کی اعانت ان کو حاصل ہوتی تھی جب بھی لڑتے تھے اور ذرا ان کو خطرہ ہو کہ قادیان سے اسلحہ نکل کے ان پر جوابی حملہ ہونے والا ہے تو ڈر کر بھاگ جایا کرتے تھے۔مگر اس دوران جب کہ لڑائی ہورہی