شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 63 of 297

شہدائے احمدیت — Page 63

خطبات طاہر بابت شہداء 58 خطبہ جمعہ سے مئی ۱۹۹۹ء میں جان دینے سے بھی دریغ نہ کریں۔پس قطعی طور پر کھلی کھلی شہادت ہے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور اپنی جانیں دے دیں اور جانتے تھے کہ انتہائی خطرناک حالات ہیں اس کے باوجود بعض بہت دور دور کے گاؤں میں گئے ہیں اور وہاں سارے کے سارے مسلمان گاؤں کا انخلا کر وا دیا گیا ہے حالانکہ چند ایک ہوا کرتے تھے۔مگر اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کی نصرت فرمائی اور کامیابی کے ساتھ بہت بڑی تعداد میں مسلمانوں کو وہاں سے نکالنے کی توفیق احمد یوں کو ملی۔قربانی کا یہ حال تھا اس زمانہ میں جب کہ کھانے کو روٹی بھی نہیں ملتی تھی ، ایک ایک لاکھ یا اس سے زائد مسلمان مہاجرین کو روٹی دینے کا انتظام قادیان کے لنگر خانہ نے کیا ہوا تھا۔اور حضرت مصلح موعود کی فراست کو دیکھئے کہ اس سے بہت پہلے آپ نے اندازہ لگا لیا تھا کہ حالات نہایت خطرناک ہونے والے ہیں اور ہمیں اس وقت ضرورت پڑے گی جب کہ کہیں گندم میسر ہی نہیں آئے گی، جب کہیں خوراک نہیں ملے گی۔چنانچہ آپ نے جماعت احمدیہ کا وہ انتظام جہاں گندم کی جاتی تھی اس انتظام کو کناروں تک گندم سے بھروا دیا۔بہت دور تک لوگوں کو بھیجا جاتا تھا کہ وہ گندم خرید کے لائیں۔اس وقت تعجب ہوتا تھا کہ اتنی زیادہ گندم کی کیا ضرورت ہے مگر جب یہ سلسلہ شروع ہوا تو اس وقت پتہ چلا کہ ارد گرد کے مسلمان جو لاکھوں کی تعداد میں قادیان میں پناہ لینے کے لئے وقتاً فوقتاً آتے رہے اگر وہ دشمن کی بستیوں سے بچا بھی لئے جاتے تو فاقوں کا شکار ہو جاتے۔مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے قادیان کے گندم کے ذخیروں نے ان کو زندہ رہنے کے لئے قوت مہیا کر دی یعنی جیسا بھی تھا نمک روٹی سے گزارہ کیا یا پانی نمک روٹی سے گزارہ کیا مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے زندہ رکھے گئے اور ان کے زندہ رکھنے میں وہ تمام احمدی شامل ہیں جنہوں نے مختلف جگہوں سے وقف کر کے قادیان میں آکر ان کی حفاظت کے انتظام کئے تھے۔اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر دے۔اب چونکہ وقت تھوڑا ہے اس لئے اس میں میں اگلے مضمون کو شروع نہیں کر سکتا۔انشاء اللہ یہ سلسلہ آگے جرمنی میں بھی جاری رہے گا اور جرمنی کے بعد پھر جب یہاں آئیں گے تب بھی یہ شہداء کے تذکرے کا سلسلہ جاری رہے گا۔اللہ تعالیٰ ان کو دین و دنیا کی سعادت تو نصیب کر ہی چکا ہے ان کی اولادوں کو بھی دین و دنیا کی سعادتیں نصیب کرے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی سب نئی نسلوں کو توفیق عطا فرمائے۔آمین۔