شہدائے احمدیت — Page 59
خطبات طاہر بابت شہداء 54 خطبہ جمعہ کے رمئی ۱۹۹۹ء شہداء میں سے ہیں۔پولیس نے اطلاع ہونے پر قاتل کو موقع پر گرفتار لیا۔چوہدری صاحب موصوف کو فوراً ہسپتال پہنچایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔اناللہ وانا الیه راجعون انڈونیشیا کے مزید چھ شہداء کا ذکر اب پھر انڈونیشیا۔تاریخ کے اعتبار سے اب پھر انڈونیشیا کی باری آرہی ہے۔چیانڈام(Chiandam ) انڈونیشیا ۳ / مارچ ۱۹۵۳ء کو اس جماعت کے چھ مردوزن کو شہید کیا گیا۔۱۹۵۳ء میں مغربی جاوا، انڈونیشیا میں ایک انتہا پسند پارٹی دارالاسلام ہوا کرتی تھی۔شر پسند عناصر اور اس جماعت کے پیشوا امام کا رتو سوویر و ( Karton Suiryo)، جو انڈونیشیا میں نام نہاد اسلامی شریعت نافذ کرنا چاہتے تھے۔دارالاسلام جو ان کی تنظیم تھی اس کے دہشت گرد جو کہ اپنے آپ کو تن تارا اسلام انڈونیشیا کہا کرتے تھے۔۳ / مارچ ۱۹۵۳ء بروز ہفتہ شام سات بجے اسی تنظیم تن تارا اسلام کے دہشت گرد صدر جماعت احمد یہ چیانڈا م کے گھر آئے۔اس وقت صدر جماعت سوما (Soma) صاحب ( عمر تقریباً ۳۷ سال) کے پاس ان کے بیٹے اور جماعت احمد یہ چیانڈام کے سیکرٹری اور محاسب محترم اوسون (Uson) صاحب ( عمر ۲۱ سال ) اور سوما صاحب کے ایک قریبی رشته دار محترم سرمان (Sarman) صاحب ( عمر ۲۶ سال) موجود تھے۔تن تارا کے کارندے زبردستی ان کے گھر میں داخل ہوئے اور ان تینوں کو اپنے ساتھ گھر کے باہر ایک کھلے میدان میں لے گئے اور فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔اناللہ وانا الیه راجعون۔اس کے بعد تن تارا اسلام انڈونیشیا کے شر پسند اس گھناؤنی کا رروائی کو جاری رکھتے ہوئے محترم جملی (Jumli) صاحب کے گھر گئے اور انہیں گھر سے بلایا۔پھر زبردستی گھر میں داخل ہو گئے جہاں محترمہ ایڈوٹ (Idot) صاحبہ اور محترمہ اونیہ (Uniah) صاحبہ بھی موجود تھیں۔انہوں نے تینوں کو گھر سے باہر نکال کر فائرنگ کر شہید کر دیا۔انالله واناالیه راجعون۔1953ء کے فسادات میں لاہور کے شہداء اب لاہور کے شہداء کا ذکر کرتا ہوں جو پہلے مارشل لاء کے نفاذ سے کچھ عرصہ پہلے شہید ہوئے اور بعضوں کا ذکر پہلے شاید ہو چکا ہو لیکن اب میں تاریخ کے حوالے سے بعض کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جن کا ذکر تحقیقی عدالت کی رپورٹ میں بھی ہے۔جس دن مارشل لاء لگایا گیا اس دن حالات اتنے خراب ہو