شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 58 of 297

شہدائے احمدیت — Page 58

خطبات طاہر بابت شہداء 53 53 خطبہ جمعہ سے مئی ۱۹۹۹ء شہید ہیں۔محترم محمد اکرم خان صاحب چارسدہ مضلع پشاور اب پھر واپس صوبہ سرحد چلتے ہیں۔محترم محمد اکرم خان صاحب چارسدہ ضلع پشاور۔تاریخ شہادت ۱۰ جنوری ۱۹۵۰ء۔آپ نے مولوی محمد الیاس صاحب کے ذریعہ احمدیت قبول کی۔پہلے پیغامی ہوا کرتے تھے پھر حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر دستی بیعت کی۔بڑے مخلص احمدی رہے۔تبلیغ کا بہت شوق تھا۔مطالعہ کتب کا جنون تھا۔کچھ عرصہ نائب تحصیلدار رہے۔دفتر چیف کمشنر سرحد میں میر منشی بھی رہے۔بعد میں زمینداری اختیار کی اور چارسدہ کے قریب موضع ” ڈب“ آباد کیا۔ڈب میں ہی تھے کہ کسی انگیخت پر ایک نامی گرامی بدمعاش نے ۱۰؍جنوری بروز منگل بندوق سے فائر کر کے شہید کر دیا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا وہ چھہتر سال کی عمر کے تھے اور ایک رئیس خاندان میں سے تھے۔یہ وہی ہیں جن کے متعلق ان کے بھائی نے بیان دیا تھا کہ ہم نے ایک اٹھنی احمدیوں کو دے دی ہے اور ایک اٹھنی غیر احمدی کو۔یہ پہلے پیغامی جماعت کے ساتھ تھے بعد میں مبائعین میں شامل ہو گئے۔خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی شہادت میں بعض مولویوں کا ہاتھ ہے۔وہ تولاز م ہو گا مگر چونکہ قطعی شہادت حضرت مصلح موعودؓ کونہیں ملی تھی اس لئے یہی فرمایا کہ خیال کیا جاتا ہے۔چوہدری محمد حسین صاحب، گمبٹ اب چوہدری محمد حسین صاحب تاریخ شہادت ۲۲ فروری ۱۹۵۲ء کا ذکر کرتا ہوں۔یہ اب پنجاب کی بات ہے اور یہ ان دنوں کی بات ہے جب کہ احرار موومنٹ کی شرارت اور شور و غوغا بہت زوروں پر تھا۔احراری لیڈروں کی رات دن کی فتنہ انگیز تقریروں اور تحریروں کی وجہ سے ۱۹ / فروری ۱۹۵۲ء کو چوہدری محمد حسین صاحب احمدی کو گمبٹ ریاست خیر پورسندھ میں شہید کر دیا گیا۔اب سندھ کے شہداء کا جو ذ کر چلتا ہے اس میں عام طور پر لوگ ان کو بھول جاتے ہیں۔یہ بھی سندھ کے عظیم الشان