شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 56 of 297

شہدائے احمدیت — Page 56

خطبات طاہر بابت شہداء آپ کو دعوت الی اللہ کا بہت شوق تھا۔51 خطبہ جمعہ کے رمئی ۱۹۹۹ء واقعہ شہادت کی تفصیل یہ ہے: احمدیت کی وجہ سے آپ کے گاؤں مینی تحصیل صوابی ضلع مردان میں آپ کی بہت مخالفت تھی۔۲۹ مئی ۱۹۴۲ء کو آپ حسب معمول ٹوپی سے نماز جمعہ ادا کر کے اپنے گاؤں واپس جا رہے تھے کہ رستے میں ان کے گاؤں موضع مینی اور صوابی کے درمیان انہیں بعض نا معلوم لوگوں نے گولیاں برسا کے شہید کر دیا۔قاتل جائے واردات پر ایک خط چھوڑ کر گئے جس میں لکھا تھا کہ قادیانی مذہب چھوڑ دو، رسول کریم کا دین خراب مت کرو ورنہ سب قتل کر دیئے جاؤ گے۔آپ نے اپنے پیچھے نو بیٹے ، تین بیٹیاں اور متعدد نواسے نواسیاں بطور یادگار چھوڑے ہیں۔یہ بھی شاید سن رہے ہوں اگر ان کے کانوں تک میری یہ آواز پہنچے تو یہ اپنے خاندان کی آج کی موجودہ تفصیل بھی مجھے بھجوائیں۔کون کون کہاں آباد ہوا ہے، ان سے خدا تعالیٰ کا کیا سلوک ہے۔انڈونیشیا کے شہداء کا ذکر اب میں ہندوستان کا ذکر چھوڑ کر تھوڑی دیر کے لئے آپ کو انڈونیشیا لے کے چلتا ہوں۔انڈونیشیا میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بہت سی شہادتیں ہوئی ہیں جو خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ جلی قلم کے لکھنے والی شہادتیں ہیں۔ب سے پہلے ۱۹۴۵ء میں آزادی کے اعلان کے بعد جبکہ انڈونیشیا نے جنگ آزادی جیت لی تو موضع چوکنگ کا ونگ ضلع تا سک ملایا، مغربی جاوا، انڈونیشیا کے علاقہ میں ماشومی نامی ایک انتہا پسند مسلمان تنظیم کے ایماء پر ماشومی کے شر پسند عناصر کے ہاتھوں چھ احمدی شہید کئے گئے۔جن کے نام یہ ہیں۔محترم جائد (Jaid) صاحب، محترم سورا (Sura) صاحب، محترم سائری (Sairi) صاحب، محترم حاجی حسن صاحب ، محترم راڈن صالح ) Raden Saleh)صاحب، دحلان (Dahlan) صاحب۔ان سب شہداء کو انتہائی وحشیانہ طریق سے ہاتھ باندھ کر سر عام چوک میں شہید کیا گیا۔اناللہ وانا اليه راجعون۔اب ظاہر ہے کہ ان سب کے لئے بظاہر تو بہ کا رستہ کھلا تھا اور ارتداد کا رستہ کھلا تھا مگر ایک بھی ان میں سے اپنے دین سے نہیں ہٹا۔بہت بہادری سے جان دی۔انہی ایام میں اس ضلع کی ایک اور جماعت سانگیانگ لومبنگ انڈ ہیانگ ( Sangiang Lombang