شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 55 of 297

شہدائے احمدیت — Page 55

خطبات طاہر بابت شہداء 50 50 خطبہ جمعہ سے مئی ۱۹۹۹ء اس وجہ سے ملانوں کی انگیخت پر ۱۳ اور ۱۴ کی درمیانی شب کو گیارہ بجے جب کہ آپ اور آپ کی اہلیہ اپنے مکان پر سوئے تھے آپ پر قاتلانہ حملہ ہوا۔پہلے حاجی صاحب پر دشمنوں نے تیز چاقو سے حملہ کیا اور پسلی کے قریب ایک گہر از خم لگا جس سے حاجی صاحب موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔اس واقعہ کو دیکھ کر ان کی اہلیہ کی آنکھ کھلی اور وہ شور مچا کر مدد حاصل کرنے کے لئے چھت پر چڑھنے لگیں کہ سنگدل قاتل نے مرحومہ کو چھت سے نیچے گرا لیا اور ایک دو وار میں ہی کام ختم کر دیا۔یہ واقعہ شہادت اور بھی دردناک ہو جاتا ہے یہ معلوم کر کے کہ ان کی چھوٹی بچی عمر دس ماہ ان کی گود میں تھی وہ ان کے نیچے دب گئی اور لاش اس بچی کے اوپر تڑپ تڑپ کر ٹھنڈی ہوئی۔اس حالت میں بچی کو اٹھایا گیا جو زندہ تھی کہ وہ مرحومہ ماں کا دودھ چوسنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن وہ دودھ خشک ہو چکا تھا۔بہت ہی دردناک شہادت ہے یہ اور اس حالت میں چونکہ پوسٹ مارٹم کے بعد لاش احمدیوں کے سپرد نہیں کی گئی تا کہ وہ اس کو با قاعدہ تابوت میں ڈال کر قادیان لے جا سکتے اس لئے ان کے غیر احمدی رشتہ داروں نے ان کی نعش کو وہیں دفنا دیا۔صو بیدار خوشحال خان صاحب صو بیدار خوشحال خان صاحب، تاریخ شہادت ۲۹ مئی ۱۹۴۲ء۔آپ صوابی ضلع مردان میں ۱۸۶۸ء میں پیدا ہوئے۔آپ کے دوسرے بھائی جمعدار سلطان محمد خان صاحب تھے۔اب ان کی شہادت کا ذکر کرتا ہوں عین ان کے ساتھ بھی احمدیت کا ایک معجزہ ہوا ہے کہ ان کے خاندان کی تمیں بہتیں پشتوں سے جہاں تک ان لوگوں کو یاد تھا یہ سلسلہ چلا آ رہا تھا کہ دو بیٹے ہوتے تھے ایک لا ولد مرجاتا تھا پھر دوسرے کی بھی دو بیٹے ہوتے تھے اور اس میں سے ایک لا ولد مر جاتا تھا۔پھر آگے اس کے بھی دو بیٹے ہوتے تھے۔یہ ایک حیرت انگیز سنت تھی جو بڑی دیر سے چلی آرہی تھی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے احمدیت قبول کرنے سے یہ طریق بدل ڈالا اور آپ کو بیٹوں، پوتوں اور پڑ پوٹیوں سے نوازا یعنی دو بیٹوں والا قصہ ختم ہو گیا پھر کثرت سے ان کے بیٹے بیٹیاں بھی ہوئے پوتے بھی ہوئے۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقدس دور میں قاضی محمد یوسف صاحب آف پشاور کے زیر تبلیغ تھے مگر احمد یت قبول کرنے کی توفیق حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں ملی۔آپ حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زیارت ایک خواب میں پہلے بھی کر چکے تھے۔