شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 57 of 297

شہدائے احمدیت — Page 57

خطبات طاہر بابت شہداء 52 52 خطبہ جمعہ کے رمئی ۱۹۹۹ء Indhiang) میں اس تنظیم کے چار دہشت گردوں نے چار احمدی احباب کو بے دردی سے شہید کیا جن کے اسماء حسب ذیل ہیں۔محترم حاجی سنوسی Haji Sanusi) صاحب، محترم اومو (omo) صاحب، محترم تبیان (Tahyan صاحب اور محترم سہرومی (Sahromi) صاحب۔۱۹۴۱ء تا ۱۹۴۵ء وارنگ دویانگ چی آنجور ) Warung Doyong Chianjur) میں نام نہاد ملاں اور نام نہاد اسلامی شر پسندوں کے فتنہ کی وجہ سے دو احمدیوں کو جیل بھیج دیا گیا جن میں سے ایک احمدی محترم مارتاوی (Martawi) صاحب ۴ رمئی کو جیل کے اندر ہی فوت ہو گئے اور اس طرح انہوں نے بھی خدا کی راہ میں شہادت پائی۔اگر چہ قتل نہیں ہوئے مگر جیل میں راہ مولیٰ میں قید کئے جانے والے جب مرتے ہیں تو شہید ہی ہوتے ہیں۔مکرم شریف دو تسا صاحب البانیہ اب یورپ آتے ہیں۔یورپ کے پہلے احمدی شہید کا ذکر کرتا ہوں۔یہ البانیہ کے باشندے تھے ان کا نام شریف دو تسا تھا۔ان کے بیٹے یہاں آکر مجھ سے ملے بھی ہوئے ہیں۔شریف دوتسا صاحب یورپ کے پہلے احمدی شہید ہیں کیونکہ جب کمیونسٹ انقلاب آیا تو وہ مذہب کا نام بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے اور چونکہ اشتراکیت اصولاً اسلام کے خلاف تھی اس لئے بڑی بہادری کے ساتھ اسلام پر قائم رہے اور کمیونسٹ حکومت کو کہ دیا کہ میں تمہارے جھوٹے نظام کے ساتھ نہیں چل سکتا۔اس کے نتیجہ میں ان کو شہید کر دیا گیا۔گویا با قاعدہ انہوں نے شہادت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے قبول کیا ہے۔سرکردہ رئیس تھے اور ان کا اثر ورسوخ البانیہ میں بھی تھا اور یوگوسلاویہ میں بھی تھا۔حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ نے آپ کی شہادت کے موقع پر تحریر فرمایا شریف دو تسا ایک مخلص احمدی تھے۔ان کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ کمیونسٹ طریق حکومت کے مخالف تھے اور جو مسلمان اس ملک میں اسلامی اصول کو قائم رکھنا چاہتے تھے ان کے لیڈر تھے۔مرتے تو سب ہی ہیں اور کوئی نہیں جو مقررہ عمر سے زیادہ زندہ رہ سکے مگر مبارک ہے وہ جو کسی نہ کسی رنگ میں دین کی حمایت کرتا ہوا مارا جائے۔شریف دو تسا کو یہ فخر حاصل ہے کہ وہ یورپ کے پہلے