شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 49 of 297

شہدائے احمدیت — Page 49

خطبات طاہر بابت شہداء 43 خطبه جمعه ۳۰ را پریل ۱۹۹۹ء ہیں اور وہیں شہید کئے گئے۔۲۳ مارچ ۱۹۵۶ء کو خطبہ ثانیہ کے بعد حضرت مصلح موعودؓ نے نماز ہائے جنازہ کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا : ” چوتھا جنازہ جو بہت تکلیف دہ ہے کابل کے ایک احمدی دوست داؤد جان صاحب کا ہے۔یہ مخلص دوست جلسہ پر ربوہ آئے ہوئے تھے۔واپس گئے تو بعض لوگوں نے ان کی حکام کے پاس شکایت کر دی۔انہوں نے بلا کر دریافت کیا کہ تم ربوہ گئے تھے؟ انہوں نے کہا ہاں میں ربوہ گیا تھا۔اس پر انہیں قید کر دیا گیا مگر ان کی قوم کی اس سے تسلی نہ ہوئی۔چنانچہ ایک بہت بڑے ہجوم نے قید خانے پر حملہ کر دیا اس کے دروازے اور کھڑکیاں توڑ دیں اور پھر انہیں نکال کر باہر لے آئے اور کھلے میدان میں کھڑا کر کے ان کو شہید کر دیا۔ان کی شہادت پر تبصرہ کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مرنا تو سب نے ہے لیکن اس قسم کی موت بہت دکھ اور تکلیف کا موجب ہوتی ہے اور مارنے والوں کو بھی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مستحق بناتی ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ انصُرُ أَخَاكَ ظَالِماً أَوْ مَظْلُوما تو اپنے بھائی کی مدد کر خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ایک صحابی نے پوچھا یا رسول اللہ مظلوم کی مدد تو سمجھ میں آگئی ہے لیکن ظالم کی مدد کیسے کی جائے۔آپ نے فرمایا ظالم کو ظلم سے روکو یہی اس کی مدد ہے۔پس تم دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کی حفاظت فرمائے اور جن لوگوں نے غلطی کی ہے انہیں بھی ہدایت دے تا بجائے اس کے کہ وہ احمدیوں کے خلاف تلوار اٹھائیں ان کے دل احمدیت کے نور سے منور ہو جائیں اور انہیں نیکی کی راہوں پر چلنے کی توفیق نصیب ہو“۔( روزنامه الفضل ۱۳ را پریل ۱۹۵۶ء) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے خطبہ فرموده ۳۰ / مارچ ۱۹۵۶ء مطبوعہ الفضل سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں کھلے میدان میں گولی مار کر شہید کر دیا گیا تھا۔ڈاکٹر محمد احمد خان صاحب کو ہاٹ اب حضرت مصلح موعودؓ کے دور میں ہونے والی بے شمار شہادتوں میں سے اب میں ایک آخری شہادت کا ذکر کرتا ہوں۔شہید مرحوم ڈاکٹر محمد احمد خان صاحب ابن خان میر خان صاحب افغان